کیا شادی بیاہ میں بھات، مہندی اور منگنی کی رائج رسوم شرعاً جائز ہیں؟


کیا شادی بیاہ میں بھات، مہندی اور منگنی کی رائج رسوم شرعاً جائز ہیں؟
 بھات، مہندی اور منگنی کی رسومات کا تحقیقی جائزہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ آج کل بہن کے بیٹے یا بیٹی کی شادی میں ننہال یعنی نانا ماموں بہن بہنوئی اور بہن کے سسرال میں جتنے بھی مرد و زن ہوتے ہیں ان سب کے لیے جوڑے اور مزید دو یا تین لاکھ روپے اوپر سے رکھ کر شادی والے دن پورے مہمانوں اور مجمع عام میں دیے جاتے ہیں جسے عرف عام میں بھات کہا جاتا ہے

اب صورت حال یہ ہے کہ اگر بھات کی رقم یا سامان کم ہو تو بہن کے سسرال والے بہن کو بہت تنگ کرتے ہیں اسی خوف کی وجہ سے لڑکی کے مائکے والے گراں بار قرض لے کر خواہ وہ سودی قرض ہی کیوں نہ ہو ہر حال میں بھات دینے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ رسم اب ایک خطرناک اور تکلیف دہ صورت اختیار کرچکی ہے دریافت طلب امر یہ ہے کہ بھات کی اس رسم کی شرعی حیثیت کیا ہے اور کیا اس طرح بھات دینا لازم سمجھنا اور اس کے لیے گراں بار قرض لینا شرعا جائز ہے نیز اگر اس کے لیے سودی قرض لیا جائے تو اس کا کیا حکم ہے اور یہ رسم کہاں سے شروع ہوئی ہے

اسی طرح آج کل مہندی کی رسم بھی سخت ناجائز صورت اختیار کرچکی ہے جس میں لڑکے والوں کی طرف سے بیس تیس افراد آتے ہیں اور لڑکی کے گھر والے اور سسرال والے سب پیلے کپڑے پہن کر ناچ گانا کرتے ہیں ایک دوسرے سے گندے مذاق کیے جاتے ہیں اور ناچنے کے دوران مرد و زن کا اختلاط بھی ہوتا ہے دریافت طلب امر یہ ہے کہ مہندی کی اس رسم کی مذکورہ صورت شرعا جائز ہے یا نہیں۔

اسی طرح منگنی کی رسم میں بھی بے دریغ پیسہ خرچ کیا جاتا ہے دریافت طلب امر یہ ہے کہ منگنی کی اس رسم کی شرعی حیثیت کیا ہے اور ان تمام رسوم کا آغاز کہاں سے ہوا ہے نیز مذہب اسلام میں ان تمام رسوم کی کیا شرعی حیثیت ہے قرآن و حدیث اور فقہی دلائل کی روشنی میں مع حوالہ کتب تحقیقی جواب عنایت فرمائیں? مستفتی عبد الکریم بانسباڑہ راجستھان

الجواب بعون الملک الوہاب : صورت مسئولہ میں بیان کردہ بھات، مہندی اور منگنی کی رسوم کو ایک ہی حکم نہیں دیا جائے گا بلکہ ہر رسم کی حقیقت اور اس میں پائی جانے والی خرابیوں کے اعتبار سے حکم مختلف ہوگا۔ اصل اصول یہ ہے کہ نکاح و شادی کے معاملات میں وہ امور جائز ہیں جنہیں شریعت نے منع نہ کیا ہو، لیکن کسی عرف یا رسم کو شرعی طور پر لازم سمجھ لینا، اس کے لیے لوگوں کو مجبور کرنا، استطاعت سے بڑھ کر خرچ کرنا اور اس رسم کی ادائیگی میں حرام امور کا ارتکاب کرنا ہرگز جائز نہیں۔

بھات کی رسم کا حکم
بھات کے نام سے اگر بہن کے بیٹے یا بیٹی کی شادی کے موقع پر نانا، ماموں، بہن، بہنوئی اور دیگر رشتہ داروں کی طرف سے خوشی کے طور پر اپنی استطاعت کے مطابق کپڑے، سامان یا رقم بلا کسی مطالبے اور جبر کے بطور ہدیہ دی جائے تو فی نفسہٖ ہدیہ دینا جائز ہے۔

لیکن صورت مذکورہ میں اگر یہ رسم اس طرح لازم سمجھی جاتی ہو کہ اتنے جوڑے اور اتنی رقم دینا ہی ہوگی، ورنہ بہن کو سسرال میں طعن و تشنیع اور اذیت کا سامنا کرنا پڑے گا، یا خاندان میں بدنامی ہوگی، تو یہ شرعی لازم نہیں بلکہ ایک غیر شرعی معاشرتی دباؤ اور جاہلانہ رسم ہے۔

خصوصا جب غریب والدین یا رشتہ دار محض رسم نبھانے اور لوگوں کی زبان سے بچنے کے لیے اپنی استطاعت سے زیادہ مال خرچ کریں اور قرض لینے پر مجبور ہوں تو یہ انتہائی قابل مذمت ہے۔ اور اگر کسی شخص کے پاس اتنی رقم موجود نہیں کہ وہ اس رسم کو پورا کرسکے تو اس پر ہرگز لازم نہیں کہ وہ قرض لے کر بھات ادا کرے۔ شریعت نے کسی رسم کی خاطر انسان کو خود کو مشقت اور قرض کے بوجھ میں مبتلا کرنے کا حکم نہیں دیا۔لہذا بھات نہ دینا شرعی گناہ نہیں اور نہ بہن کے سسرال والوں کو یہ حق ہے کہ کم بھات دینے کی وجہ سے لڑکی کو اذیت دیں یا اس کے میکے والوں پر دباؤ ڈالیں۔ ایسی صورت میں ظلم کا گناہ ان لوگوں پر ہوگا جو اس رسم کو بنیاد بنا کر کسی مسلمان کو تکلیف دیتے ہیں۔

البتہ اگر کسی نے اپنی خوشی سے، بغیر مطالبے اور بغیر کسی آئندہ بدلے کی پابندی کے ہدیہ دیا تو یہ جائز بلکہ باہمی محبت کا ذریعہ ہوسکتا ہے۔

یہ بھی واضح رہے کہ شادی بیاہ میں رائج بعض مالی رسوم عرف کے اعتبار سے ہدیہ کے بجائے قرض کی صورت اختیار کرلیتی ہیں، خصوصا جب یہ ذہن ہو کہ آج ہم نے اتنا دیا ہے، کل ان کے گھر شادی ہوگی تو اتنا ہی واپس ملنا چاہیے۔ بہار شریعت نے شادی وغیرہ کی تقریبات میں رائج اس قسم کے مالی لین دین کے متعلق یہی تفصیل بیان کی ہے۔ 

بھات کے لیے سودی قرض لینے کا حکم بھات دینے کے لیے سودی قرض لینا قطعا ناجائز و حرام ہے۔ بلکہ کسی بھی شادی یا معاشرتی رسم کی ادائیگی شرعی ضرورت نہیں جس کی وجہ سے سودی قرض لینے کی اجازت پیدا ہوجائے۔ اگر کسی کے پاس رقم نہیں تو وہ سادگی سے شادی کرے، بھات نہ دے، یا استطاعت کے مطابق معمولی ہدیہ دے، لیکن سودی قرض لے کر رسم پوری نہ کرے۔

اللہ تعالیٰ نے صاف ارشاد فرمایا: وَاَحَلَّ اللّٰهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا ترجمہ کنزالایمان: "اور اللہ نے حلال کیا بیع کو اور حرام کیا سود"۔ لہذا ایک طرف محض معاشرتی رسم ہو اور دوسری طرف سود جیسا قطعی حرام معاملہ، تو کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ لوگوں کے طعنوں سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اختیار کرے۔ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے بھی شادی جیسے مواقع کے لیے سودی قرض لینے کے بارے میں سخت ممانعت فرمائی ہے، بلکہ واضح فرمایا کہ محض شادی کی خواہش یا زیادہ خرچ کی ضرورت شرعی ضرورت نہیں۔ 

بھات کی رسم کہاں سے شروع ہوئی؟
بھات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام یا شریعت کی مقرر کردہ شادی کی سنت قرار دینا درست نہیں۔ اس مخصوص رسم کی ابتدا کس شخص، کس زمانے یا کس قوم سے ہوئی، اس بارے میں قطعی تاریخی دلیل کے بغیر کسی خاص قوم یا مذہب کی طرف نسبت کرنا مناسب نہیں۔

البتہ اتنا ضرور ہے کہ یہ اسلامی نکاح کی کوئی مقررہ سنت یا واجب حصہ نہیں بلکہ برصغیر کے مختلف علاقوں اور خاندانوں میں مختلف ناموں اور صورتوں کے ساتھ رائج معاشرتی رسم ہے۔لہذا اگر کوئی اسے محض عرفی ہدیہ کی حیثیت سے رکھے اور اس میں کوئی خلاف شرع امر نہ ہو تو اصل ہدیہ جائز ہے، لیکن اسے لازم کرنا، مطالبہ کرنا، طعنہ دینا، قرض پر مجبور کرنا یا اس کے لیے حرام ذرائع اختیار کرنا ناجائز ہے۔

مہندی کی رسم کا حکم
مہندی لگانا بذات خود عورت کے لیے جائز زینت ہے، لیکن سوال میں جس مہندی کی رسم کا ذکر ہے، یعنی لڑکے والوں کا آنا، مرد و زن کا اختلاط، سب کا مخصوص لباس پہننا، ناچنا گانا، فحش اور گندے مذاق کرنا اور بے پردگی وغیرہ، تو اس مجموعی صورت میں متعدد ناجائز امور جمع ہوجاتے ہیں۔

لہذا ایسی مہندی کی تقریب ناجائز و گناہ ہے۔
اس میں اگر نامحرم مرد و عورت کا اختلاط اور بے پردگی ہو تو یہ مستقل گناہ ہے، فحش مذاق ہو تو الگ گناہ، گانے باجے اور رقص ہوں تو الگ گناہ، اور اگر اسراف و فضول خرچی بھی ہو تو مزید قباحت ہے۔ لہذا صرف یہ کہہ دینا کہ "یہ تو شادی کی خوشی ہے" ان ناجائز امور کو جائز نہیں بنا دیتا۔ خوشی منانا شریعت نے منع نہیں کیا، مگر خوشی منانے کا طریقہ بھی شریعت کے دائرے میں ہونا ضروری ہے۔

منگنی کی رسم کا حکم
منگنی بذات خود کوئی نکاح نہیں بلکہ نکاح کا وعدہ ہے۔ اگر محض رشتہ طے کیا جائے اور نکاح سے پہلے دونوں خاندان ایک دوسرے سے شادی کا وعدہ کریں تو فی نفسہٖ اس میں حرج نہیں۔
لیکن آج کل منگنی کے نام پر جو تقریبات منعقد ہوتی ہیں، ان میں بے جا اخراجات، نمود و نمائش، مرد و عورت کا اختلاط، بے پردگی، موسیقی، رقص، غیر محرم کا ہاتھ پکڑنا، انگوٹھی پہنانا اور دیگر خلاف شرع امور شامل ہوجاتے ہیں۔ ایسی صورت میں ان ناجائز امور کی وجہ سے تقریب ناجائز ہوگی۔

خصوصا یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ منگنی ہوجانے کے بعد بھی لڑکا لڑکی ایک دوسرے کے لیے نامحرم ہی رہتے ہیں۔منگنی سے نکاح کے احکام ثابت نہیں ہوتے۔ لہذا دونوں کا آزادانہ میل جول، تنہائی، ہاتھ ملانا یا ایک دوسرے کو چھونا جائز نہیں۔ اسی طرح منگنی کے موقع پر لڑکے یا لڑکی والوں سے اپنی حیثیت سے بڑھ کر تحائف، کپڑے، زیورات، مٹھائیاں یا دیگر سامان کا مطالبہ کرنا بھی درست نہیں۔ فقہائے اہل سنت نے ایسی رسوم کی قباحت واضح کی ہے۔ 

اصل خرابی رسم نہیں بلکہ رسم کو شریعت کا درجہ دینا ہے یہاں ایک اہم اصول سمجھنا چاہیے کہ ہر نیا عرف خود بخود حرام نہیں ہوتا۔ دنیاوی معاملات میں بہت سے عرف جائز ہوتے ہیں، بشرطیکہ ان میں کوئی شرعی ممانعت نہ ہو۔ لیکن جب کوئی رسم لازم سمجھی جائے۔ نہ کرنے والے کو طعنہ دیا جائے۔خاندان کی عزت کا مسئلہ بنا دیا جائے۔ استطاعت نہ رکھنے والے کو قرض لینے پر مجبور کیا جائے۔ اسراف و تبذیر ہو۔ مرد و عورت کا ناجائز اختلاط ہو۔ بے پردگی ہو۔ گانا بجانا اور رقص ہو۔ یا سودی قرض لینا پڑے۔ تو ایسی رسم کو ختم کرنا ضروری ہے۔

اسلام نکاح کو آسان بناتا ہے، مشکل نہیں۔ افسوس کہ آج بعض معاشرتی رسوم نے نکاح کو اس قدر مہنگا کردیا ہے کہ لوگ جائز نکاح کے لیے ناجائز قرضوں اور حرام ذرائع تک پہنچ جاتے ہیں۔ شادی کے لیے سودی قرض لینے کی کوئی عام شرعی گنجائش نہیں۔  لہذا مسلمانوں کو چاہیے کہ شادیوں کو سادہ کریں، غیر ضروری رسموں کو ترک کریں، اپنی استطاعت کے مطابق خرچ کریں، ایک دوسرے پر بوجھ نہ ڈالیں اور نکاح کو دکھاوے اور مقابلے کا ذریعہ نہ بنائیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ بھات بطورِ اختیاری ہدیہ جائز ہے مگر اسے لازم کرنا، مطالبہ کرنا اور اس کی وجہ سے کسی کو اذیت دینا ناجائز ہے۔ اس کے لیے سودی قرض لینا حرام ہے۔ سوال میں مذکورہ ناجائز امور پر مشتمل مہندی کی رسم ناجائز ہے۔ منگنی محض نکاح کا وعدہ ہونے کی حیثیت سے جائز ہے، لیکن اسے خلاف شرع رسوم، بے پردگی، اختلاط، موسیقی، رقص، اسراف اور نامحرم سے میل جول کا ذریعہ بنانا ناجائز ہے۔

1۔ فضول خرچی کی ممانعت
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا ۝ إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ
ترجمہ کنزالایمان: "اور بے جا نہ اڑا بے شک اڑانے والے شیطانوں کے بھائی ہیں"۔(سورۃ الاسراء، آیت 26، 27) 

2۔ سود کی حرمت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : سود"۔ (سورۃ البقرۃ، آیت 275) 

3۔ سود کے بارے میں حدیث
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: لَعَنَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ وَكَاتِبَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَقَالَ هُمْ سَوَاءٌ
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے، سود دینے والے، اس کے لکھنے والے اور اس کے دونوں گواہوں پر لعنت فرمائی اور فرمایا کہ یہ سب گناہ میں برابر ہیں۔ (صحیح مسلم، کتاب البیوع، باب لعن آکل الربا وموکلہ)

4 ۔ بہار شریعت میں شادی کی ناجائز اور مالی رسوم 
 حضور صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی امجد علی اعظمی نور اللہ مرقدہ تحریر فرماتے ہیں : شادیوں میں طرح طرح کی رسمیں برتی جاتی ہیں ، ہر ملک میں نئی رسوم ہر قوم و خاندان کے رواج اور طریقے جداگانہ جو رسمیں ہمارے ملک میں جاری ہیں ان میں بعض کا ذکر کیا جاتا ہے ۔ رسوم کی بنا عرف پر ہے یہ کوئی نہیں سمجھتا کہ شرعاً واجب یا سنت یا مستحب ہیں لہٰذا جب تک کسی رسم کی ممانعت شریعت سے ثابت نہ ہواُس وقت تک اُسے حرام و ناجائز نہیں کہہ سکتے کھینچ تان کر ممنوع قرار دینا زیادتی ہے، مگر یہ ضرور ہے کہ رسوم کی پابندی اسی حد تک کر سکتا ہے کہ کسی فعل حرام میں مبتلا نہ ہو۔

 بعض لوگ اِس قدر پابندی کرتے ہیں کہ ناجائز فعل کرنا پڑے تو پڑے مگر رسم کا چھوڑنا گوارا نہیں ، مثلاً لڑکی جوان ہے اور رسوم ادا کرنے کو روپیہ نہیں تو یہ نہ ہوگا کہ رسوم چھوڑ دیں اور نکاح کر دیں کہ سبکدوش ہوں اور فتنہ کا دروازہ بند ہو۔ اب رسوم کے پورا کرنے کو بھیک مانگنے طرح طرح کی فکریں کرتے، اس خیال میں کہ کہیں سے مل جائے تو شادی کریں برسیں گزار دیتے ہیں اور بہت سی خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں ۔ بعض لوگ قرض لے کر رسوم کو انجام دیتے ہیں ، یہ ظاہر کہ مفلس کو قرض دے کون پھر جب یوں قرض نہ ملا تو بنیوں کے پاس گئے اور سودی قرض کی نوبت آئی سود لینا جس طرح حرام اسی طرح دینا بھی حرام حدیث میں دونوں پر لعنت آئی اللہ (عزوجل) و رسول (صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم) کی لعنت کے مستحق ہوتے اور شریعت کی مخالفت کرتے ہیں مگر رسم چھوڑنا گوارا نہیں کرتے۔ پھر اگر باپ دادا کی کمائی ہوئی کچھ جائداد ہے تو اُسے سودی قرض میں مکفول کیا ورنہ رہنے کا جھونپڑا ہی گرو ی رکھا تھوڑے دنوں میں سود کا سیلاب سب کو بہا لے گیا۔ جائداد نیلام ہوگئی مکان بنیے کے قبضہ میں گیا دربدر مارے مارے پھرتے ہیں نہ کھانے کا ٹھکانہ، نہ رہنے کی جگہ اسکی مثالیں ہر جگہ بکثرت ملیں گی کہ ایسے ہی غیر ضروری مصارف کی وجہ سے مسلمانوں کی بیشتر جائدادیں سود کی نذر ہو گئیں ، پھر قرضخواہ کے تقاضے اور اُسکے تشدد آمیز لہجہ سے رہی سہی عزت پر بھی پانی پڑ جاتا ہے۔ یہ ساری تباہی بربادی آنکھوں دیکھ رہے ہیں مگر اب بھی عبرت نہیں ہو تی اور مسلمان اپنی فضول خرچیوں سے باز نہیں آتے ،یہی نہیں کہ اسی پر بس ہو اس کی خرابیاں اسی زندگی دنیا ہی تک محدود ہوں بلکہ آخر ت کا وبال الگ ہے۔ بمو جب حدیث صحیح لعنت کا استحقاق والعیاذ باللہ  (بہار شریعت حصہ 7 ص 105, 106)  

نیز تحریر فرماتے ہیں: 
 شریعتِ مطہرہ نے جس طرح سود لینا حرام فرمایا سود دینا بھی حرام کیا ہے۔ حدیثوں میں دونوں پر لعنت فرمائی ہے اور فرمایا کہ دونوں برابر ہیں ۔ آج کل سود کی اتنی کثرت ہے کہ قرضِ حسن جو بغیر سودی ہوتا ہے بہت کم پایا جاتا ہے دولت والے کسی کو بغیر نفع روپیہ دینا چاہتے نہیں اور اہل حاجت اپنی حاجت کے سامنے اس کا لحاظ بھی نہیں کرتے کہ سودی روپیہ لینے میں آخرت کا کتنا عظیم وبال ہے اس سے بچنے کی کوشش کی جائے۔ لڑکی لڑکے کی شادی۔ختنہ اور دیگر تقریبات شادی وغمی میں اپنی وسعت سے زیادہ خرچ کرنا چاہتے ہیں ۔ برادری اور خاندان کے رسوم میں اتنے جکڑ ے ہوئے ہیں کہ ہر چند کہیے ایک نہیں سنتے رسوم میں کمی کرنے کو اپنی ذلت سمجھتے ہیں ۔ ہم اپنے مسلمان بھائیوں کو اولاً تو یہی نصیحت کرتے ہیں کہ ان رسوم کی جنجال سے نکلیں ،چادرسے زیادہ پاؤں نہ پھیلائیں اور دُنیا و آخرت کے تباہ کن نتائج سے ڈریں ۔ تھوڑی دیر کی مسرت یا ابنائے جنس میں نام آوری کا خیال کرکے آئندہ زندگی کو تلخ نہ کریں ۔ اگر یہ لوگ اپنی ہٹ سے باز نہ آئیں قرض کابارگراں اپنے سرہی رکھنا چاہتے ہیں بچنے کی سعی نہیں کرتے جیسا کہ مشاہدہ اسی پرشاہدہے تو اب ہماری دوسری فہمائش ان مسلمانوں کو یہ ہے کہ سودی قرض کے قریب نہ جائیں ۔ (بہار شریعت حصہ 11 ص 781)

۔ فتاوی رضویہ میں شادی کی رسوم اور قرض فتاویٰ رضویہ شریف میں شادی وغیرہ کے موقع پر رائج مالی لین دین اور نیوتہ کے احکام بھی مذکور ہیں۔ 

5 ۔ شادی کے لیے سودی قرض
مجدد اعظم،امام احمد رضا خاں فاضلِ بریلوی نور اللہ تحریر فرماتے ہیں : محتاج کے یہ معنی جو واقعی حقیقی ضرورت قابل قبول شرع رکھتا ہو کہ نہ اس کے بغیر چارہ ہو نہ کسی طرح بے سودی روپیہ ملنے کا یارا ورنہ ہر گز جائز نہ ہوگا جیسے لوگوں میں رائج ہے کہ اولاد کی شادی کرنی چاہی سوروپے پاس ہیں ہزار روپے لگانے کو جی چاہا نوسو سودی نکلوائے یا مکان رہنے کو موجود ہے دل پکے محل کو ہوا سودی قرض لے کر بنایا یا سودوسو کی تجارت کرتے ہیں قوت اہل وعیال بقدر کفایت ملتا ہے نفس نے بڑا سودا گر بننا چاہا پانچ چھ سوسودی نکلوا کر لگا دئے یا گھر میں زیور وغیرہ موجود ہے جسے بیچ کر روپیہ حاصل کرسکتے ہیں نہ بیچا بلکہ سودی قرض لیا وعلی ہذا القیاس صدہا صورتیں ہیں کہ یہ ضرورتیں نہیں تو ان میں حکم جواز نہیں ہوسکتا اگرچہ لوگ اپنے زعم میں ضرورت سمجھیں  (فتاوی رضویہ، جلد 17، ص 299، 300)

اور اسی سلسلے میں مزید فرمایا:
"فاتحہ سوم یا لڑکی کی شادی کے لئے سودی قرض لینا حرام ہے ، زید ضرور مرتکب گناہ" (فتاوی رضویہ، جلد 17، ص 347) 

نیز فرماتے ہیں : 
لوگ بے ضرورت باتوں کو ضرورت ٹھہرالیتے ہیں مثلًا شادی میں کثیر خرچ درکارہے کچے مکان میں رہتے ہیں پختہ مکان بنانا منظورہے گزرکے لائق تجارت کررہے ہیں اور بڑاسوداگربننامقصود ہے ان اغراض کے لئے سودی قرض لیتے ہیں یہ حرام ہے،اس کا اور سود دینے کاایك حکم ہے۔صحیح حدیث میں ہے: لعن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اٰکل الربٰو ومؤکلہ وکاتبہ وشاھدیہ وقال ھم سواء ۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے سود کھانے والے،کھلانے والے، اُسےلکھنے والے اور اس کےگواہ ان سب پرلعنت فرمائی۔اور فرمایا وہ سب(گناہ میں) برابر ہے۔"  (فتاویٰ رضویہ شریف جلد 23 ص 586)

لہذا سوال میں بیان کردہ صورت میں بھات کی جبری رسم، سودی قرض، ناجائز مہندی اور خلاف شرع منگنی کی تقریبات سے مکمل اجتناب ضروری ہے اور مسلمانوں کو چاہیے کہ نکاح کو سادگی، سنت اور شریعت کے مطابق انجام دیں۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
کــــتبہ : سـرفـراز احمد قــادری امجدی
8 ربیع النور 1448ھ 22 اگست 2026ء
 بانی و صدر محبوب الاولیاء فاؤنڈیشن لہوریا شریف ضلع سیتامڑھی بہار خطیب و امام، سنی حنفی بریلوی جامع مسجد پرسواڑا، ضلع بالاگھاٹ، ایم پی

एक टिप्पणी भेजें

और नया पुराने