زنا کرنے والے امام کے پیچھے نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
زید (جو کہ ایک جگہ امام ہے) اپنے گھر گیا اور اپنے پیچھے بکر کو نماز پڑھانے کے لیے چھوڑ گیا لیکن بکر نے زنا کیا ہوا آدھے مقتدی کو زنا کا علم ہے اور آدھے مقتدی بے خبر ہیں اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ بکر فاسق معلن ہے یا نہیں اور بکر کے پیچھے نماز پڑہنا جائز ہے یا نہیں اگر جائز ہے تو کیا جن کو معلوم ہے اُنکا نماز پڑہنا بھی جائز ہے اور اگر ناجائز ہے تو جو لوگ بے خبر ہین اُن کا نماز پڑہنا بھی ناجائز ہے جواب دیکر شکریہ کا موقع دیں المستفتی : فیصل خان مرادآباد
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوہاب : صورت مسئولہ میں اگر بکر سے زنا کا ارتکاب ثابت ہے تو وہ فاسق ہے، کیونکہ فاسق وہ شخص ہے جو کسی گناہ کبیرہ کا مرتکب ہو۔ لیکن صرف زنا کرلینے سے یہ لازم نہیں کہ وہ فاسق معلن بھی ہو۔ اگر اس نے زنا چھپا کر کیا ہے اور اس کا فسق معروف و مشہور نہیں تو وہ فاسق غیر معلن ہے، اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تنزیہی، یعنی خلاف اولی ہے، جماعت ترک نہیں کی جائے گی۔
سیدی سرکار اعلی حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : "فاسق وہ کہ کسی گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوا اور وہی فاجر ہے ، اور کبھی فاجر خاص زانی کو کہتے ہیں ، فاسق کے پیچھے نماز مکروہ ہے پھر اگر معلن نہ ہو یعنی وہ گناہ چھُپ کر کرتا ہو معروف و مشہور نہ ہو تو کراہت تنزیہی ہے یعنی خلاف اولیٰ ، اگر فاسق معلن ہے کہ علانیہ کبیرہ کا ارتکاب یاصغیرہ پر اصرار کرتا ہے تو اسے امام بنانا گناہ ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی کے پڑھنی گناہ اور پڑھ لی تو پھیرنی واجب۔" (فتاوی رضویہ شریف، جلد 6، ص 601، 602)
لہذا سوال میں مذکور صورت کی دو حالتیں ہیں: اول: اگر بکر نے زنا چھپا کر کیا ہے اور اس کا زنا معروف و مشہور نہیں، تو وہ فاسق غیر معلن ہے۔ اس کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تنزیہی ہے، مگر جماعت ترک نہیں کی جائے گی۔ لہذا جن مقتدیوں کو اس کے زنا کا علم ہے وہ بھی اس کے پیچھے نماز پڑھ سکتے ہیں، اگرچہ بہتر یہ ہے کہ کسی صالح شخص کو امام بنایا جائے۔
دوم: اگر بکر نے زنا علانیہ کیا ہے یا اس کا فسق معروف و مشہور ہے تو وہ فاسق معلن ہے۔ اسے امام بنانا گناہ اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے، اور اگر اس کے پیچھے نماز پڑھ لی تو نماز کا اعادہ واجب ہے۔ اور اگر بعض مقتدی بکر کے فسق سے بے خبر ہوں اور بعض کو معلوم ہو، تو بکر کے فاسق معلن ہونے کی صورت میں حکم سب کے لیے یہی ہے کہ اس کو امام بنانا درست نہیں۔ البتہ جو لوگ حقیقت سے بے خبر تھے ان کا لاعلمی کی وجہ سے گناہ نہ ہوگا، مگر نماز کے اعادے کا حکم الگ ہے۔
اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ مزید فرماتے ہیں: "اگر علانیہ فسق وفجور کرتا ہے اور دوسرا کوئی امامت کے قابل نہ مل سکے تو تنہا نماز پڑھیں ۔ فان تقدیم الفاسق اثم والصلاۃ خلفہ مکروھۃ تحریما والجماعۃ واجبۃ فھما فی درجۃ واحدۃ ودرء المفاسد اھم من جلب المصالح۔ کیونکہ تقدیم ِ فاسق گناہ ہے اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے اور جماعت واجب ہے ، پس دونوں کو درجہ ایک ہوا ، لیکن مصالح کے حصول سے مفاسد کو ختم کرنا اہم اور ضروری ہوتا ہے۔"
پھر فرماتے ہیں: "اور اگر کوئی گناہ چھپا کر کرتا ہے تو اس پیچھے نماز پڑھیں اور اس کے فسق کے سبب جماعت نہ چھوڑیں لان الجماعۃ واجبۃ والصلاۃ خلف فاسق غیر معلن لا تکرہ الاتنزیھا۔ کیونکہ جماعت واجب ہے اور فاسق غیر معلن کے پیچھے نماز پڑھنا زیادہ سے زیادہ مکروہ تنزیہی ہے۔" (فتاوی رضویہ شریف، جلد 6، ص 601، 602)
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ : سرفـراز احمد قادری امجدی
17 ربیع النور 1448ھ 31 اگست 2026ء
بانی و صدر محبوب الاولیاء فاؤنڈیشن لہوریا شریف ضلع سیتامڑھی بہار خطیب و امام، سنی حنفی بریلوی جامع مسجد پرسواڑا، ضلع بالاگھاٹ، ایم پی
Tags
کتاب الصلاۃ
