الکوحل والے پرفیوم کے استعمال اور اس سے نماز کا کیا حکم ہے؟
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے متعلق کہ آج کل پرفیوم کا استعمال بہت عام ہوچکا ہے کسی پرفیوم میں الکوحل ہوتا ہے اور کسی میں نہیں اور اکثر و بیشتر اُس پرفیوم کی شیشی پر لکھا ہوا نہیں ہوتا تو دریافت طلب امر یہ ہے کہ اُس کا استعمال کرنا کیسا ہے اور استعمال کرنے کی صورت میں نماز کے متعلق کیا حکم ہوگا جواب عنایت فرماکر شکریہ کا موقع عطا فرمائیں سائل : محمد مرتضیٰ رضا نعمانی مالیگاؤں ضلع ناسک مہاراشٹر
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوہاب : صورت مسئولہ میں اگر کسی پرفیوم میں اسپرٹ یعنی الکوحل شامل ہونے کا یقینی علم ہو تو مذکورہ حوالہ کے مطابق اس کا استعمال بدن یا کپڑے پر کرنا جائز نہیں، کیونکہ اسپرٹ نجاست غلیظہ ہے اور جس بدن یا کپڑے پر شرعی مقدار سے زائد لگ جائے اس کے ساتھ نماز صحیح نہیں ہوگی۔
جیسا کہ سیدی سرکار اعلیٰ حضرت، مجدد اعظم دین و ملت، امام اہلسنت، امام احمد رضا خاں فاضلِ بریلوی نور اللہ مرقدہ تحریر فرماتے ہیں : "اسپرٹ حرام ہی نہیں بلکہ نجس بھی ہے،اپنے ہی منہ میں پینا،توحرام ونجس چیز کھانے پینے کا آج کل ہر شخص کو اختیار ہے،مگر مسجد کے برتن نجس کئے کہ مسلمانوں کے جامہ و بدن ناپاك اور وضو و نماز باطل ہوں،یہ صاف دلیل ہے کہ یہ شخص شریعت پر سخت جری وبیباک ہے۔" (فتاویٰ رضویہ شریف جلد 14 ص 375)
نیز فرماتے ہیں : فلاں شراب کے نودس قطروں میں ایك قطرہ اسپرٹ ہے،اور فلاں شراب کے سو قطروں میں ایك قطرہ اسپرٹ کی ملاوٹ ہے۔اور سب شرابیں پینے سے نشہ لاتی ہیں، اور یہ صرف سونگھنے سے نشہ لاتی ہے اس لئے کہ اس کی"بُو" نشہ آور ہے۔بلاشبہہ تمام شرابوں کی طرح یہ حرام ہونے کے علاوہ ناپاك بھی ہے لہٰذا جس دوائی میں اس کی ملاوٹ ہو اس کا جسم پر ملناپہلا حرام ہے اور پینادوسراحرام بلکہ تیسراحرام ہے۔اس کاحاصل کرنا حرام۔اس کا خریدنا،اٹھانا اور جسم کو اس سے آلودہ کرنایہ سب کام حرام ہیں۔اور یہاں چوتھا حرام اسے پینا ہے۔سیّد عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے شراب کے دس افراد پر لعنت فرمائی ان میں سے یہ لوگ ہیں (۱)فروخت کرنے والا(۲) خریدنے والا(۳)اٹھانے والا(۴) وہ جس تك اٹھاکر لے جائے۔ حاصل یہ ہے کہ جو کوئی کسی طرح بھی اس سے وابستہ ہو وہ ایک حرام اور ناپاک چیز سے آلودگی رکھتاہے۔اور جوکوئی کسی مسلمان کو اس مصیبت سے چھڑائے اور اسے روکے اسے سو شہیدوں کا اجرو ثواب ہے۔ چنانچہ حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جس خوش نصیب نے میری سنت کو اس وقت تھاما کہ جب میری امت میں فساد پھیل گیا تو اسے سوشہیدوں کاثواب عطا ہوگا۔ (فتاویٰ رضویہ شریف جلد 24 ص 203)
اور فتاویٰ حافظ ملت میں رقم ہے : "اسپرٹ بلا شبہہ شراب ہے بلکہ شراب کی بدترین قسم، فتاوی رضویہ جلد دوم میں ہے: ’’ان اسبارتوھي روح النبیذ خمر قطعا بل من أخبث الخمور فہي حرام ورجس نجس نجاسۃ غلیظۃ کالبول‘‘۔یہ جس چیز میں ایک قطرہ بھی پڑے وہ سب کا سب ناپاک نجاست غلیظہ کے ساتھ، جس خوش بو میں اسپرٹ ہو اس کا خواہ ملنا بدن میں ہو یا کپڑے میں اب بھی حرام وگناہ۔ اس سے بدن اور کپڑا بلا شبہہ ناپاک ہو جائے گا اور درم کی مقدار سے زائد ہو تو ایسے کپڑے کے ساتھ یا بدن میں لگنے سے نماز صحیح نہ ہوگی۔آپ نے فتاوی رضویہ جلد یازدہم کی عبارت نقل کرنے میں بہت خطرناک کام کیا ہے آیندہ اس سے احتراز کریں یہ دیانت کے خلاف ہے۔ جلد یازدہم کے فتوی میں مطلقا کپڑے میں اسپرٹ لگانے کی اجازت نہیں دی ہے بلکہ جس رنگ میں اسپرٹ پڑی ہو اور اس سے کپڑا رنگا گیا ہو تو عموم بلوی کی وجہ سے یہ رنگین کپڑا پاک ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ تخفیف عموم بلوی کی وجہ سے ہے اور یہ عموم بلوی صرف اس رنگ میں ہے جس سے کپڑا رنگا جاتا ہے ۔ اس لیے یہ کپڑے کے ساتھ خاص ہے، خوش بو میں نہ عموم بلوی ہے نہ تخفیف ضرورت نہ وہاں اجازت۔" (فتاویٰ حافظ ملت جلد 2 ص 115)
لہذا جس پرفیوم میں اسپرٹ ہونے کا یقینی علم ہو اس کا استعمال نہ کیا جائے۔ اگر بدن یا کپڑے پر اتنی مقدار لگ گئی جو شرعاً مانع نماز ہو تو نماز سے پہلے اسے پاک کرنا ضروری ہوگا۔
لیکن اگر پرفیوم کی شیشی پر الکوحل کا ذکر نہیں اور اس میں الکوحل ہونے کا کوئی یقینی علم بھی نہیں، صرف شک ہے تو محض شک کی بنا پر اسے نجس قرار نہیں دیا جائے گا؛ اصل طہارت ہے، لہذا اس کے استعمال سے نماز کے بطلان کا حکم نہیں دیا جائے گا۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ : سرفراز احمد قادری امجدی
17 ربیع النور 1448ھ 31 اگست 2026ء
بانی و صدر محبوب الاولیاء فاؤنڈیشن لہوریا شریف ضلع سیتامڑھی بہار خطیب و امام، سنی حنفی بریلوی جامع مسجد پرسواڑا، ضلع بالاگھاٹ، ایم پی
Tags
کتاب الصلاۃ
