میت کا پوسٹ مارٹم کروانا شرعاً جائز ہے یا ناجائز؟ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

فتویٰ نمبر 138
 میت کا پوسٹ مارٹم کروانا شرعاً جائز ہے یا ناجائز؟


السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ کسی میت کا پوسٹ مارٹم کروانا اسلام میں جائز ہے یا ناجائز ہے اگر جائز ہے تو اس کی صورت کیا ہے قرآن و حدیث اور اجماع امت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔  سائل : محمد سحرول حنفی ضلع کٹیہار بہار
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
الجواب مستمدًا من فضل اللہ تعالیٰ : میت کا بلا ضرورت شرعی پوسٹ مارٹم کروانا ناجائز و حرام ہے، کیونکہ پوسٹ مارٹم میں میت کے جسم کو چیرنا، کاٹنا، مختلف اعضاء کو جدا کرنا اور اس کی بے حرمتی جیسے امور پائے جاتے ہیں، جبکہ شریعت مطہرہ نے مسلمان میت کی حرمت و عزت کو بھی زندہ مسلمان کی طرح معتبر قرار دیا ہے۔
لہذا عام حالات میں کسی میت کا پوسٹ مارٹم کروانا شرعاً جائز نہیں، خصوصاً محض تحقیق، تجسس یا بلا ضرورت قانونی کارروائی کے لیے میت کی بے حرمتی کرنا درست نہیں۔
البتہ اگر حقیقی عذرِ شرعی پیش آجائے اور کسی اہم شرعی یا قانونی حق کے اثبات کے لیے پوسٹ مارٹم کے سوا کوئی دوسرا قابل اعتماد راستہ باقی نہ ہو، مثلاً قتل کے معاملے میں قاتل کی شناخت یا جرم کے اہم ثبوت کے حصول کے لیے یہ ناگزیر ہو، تو بقدرِ ضرورت پوسٹ مارٹم کی گنجائش ہوگی۔ ایسی صورت میں بھی حتی الامکان میت کی حرمت و پردہ داری کا لحاظ رکھا جائے اور صرف اتنا ہی عمل کیا جائے جتنی ضرورت ہو، اس سے زائد جسم کے ساتھ تعرض نہ کیا جائے۔
مسلمان کی قبر کے احترام کے متعلق نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: لأن ‌أمشي على جمرة أو سيف أو أخصف نعلي برجلي، أحب إلي من أن ‌أمشي ‌على ‌قبر ‌مسلم۔ ترجمہ: میں انگارے یا تلوارپر چلوں یا اپنا جوتا اپنے قدم سے سِی لوں، یہ عمل مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں کسی مسلمان کی قبر پر قدم رکھوں اور چلوں۔ (سنن ابن ماجۃ، جلد 02، صفحہ 508، مطبوعه دار الرسالۃ العالمیہ)
علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے لکھا: ان الميت يتأذى بما يتأذى ‌به ‌الحي۔ ترجمہ: میت بھی ہر اُس چیز سے تکلیف محسوس کرتی ہے، جس سے زندہ شخص تکلیف محسوس کرتا ہے۔ (ردالمحتار مع درمختار، جلد 02، صفحہ 438)
قبرکشائی کی حرمت اور پھر عذرِ شرعی کی وضاحت کرتے ہوئے امام کمال الدین ابنِ ہُمَّام رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 861ھ / 1456ء) لکھتےہیں: لا ينبش ‌بعد ‌إهالة ‌التراب لمدة طويلة و لا قصيرة إلا لعذر قال المصنف في التجنيس: و العذر أن الأرض مغصوبة أو يأخذها شفيع، ولذا لم يحول كثير من الصحابة و قد دفنوا بأرض الحرب إذ لا عذر۔ ترجمہ: قبر پر مٹی ڈال دینے کے بعد میت کو ہر گز نہیں نکال سکتے، خواہ تدفین کو کچھ وقت ہی ہوا ہے یا مدت بِیت چکی ہو، ہاں اگر عذرِ شرعی متحقق ہو، تو نکال سکتے ہیں۔ مصنف نے ”التجنیس“ میں فرمایا: عذر یہ ہے کہ زمین مغصوبہ ہو یا شفیع اُسے حاصل کر لے، اِسی وجہ سے کثیر صحابہ کے مقامِ دفن کو منتقل نہیں کیا گیا، حالانکہ اُنہیں دار الحرب میں دفن کیا گیا تھا، وجہ وہی تھی کہ عذرِ شرعی ثابت نہیں تھا۔ (فتح القدیر، جلد 02، صفحہ 149، مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
امامِ اہلِ سنَّت، امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 1340ھ/1921ء) سے سوال ہوا کہ کیا بعدِ دفن میت کو کسی دوسری جگہ منتقل کر سکتے ہیں۔ آپ نے جواب دیا:
 صورتِ مذکورہ میں نبش حرام، حرام، سخت حرام، اور میّت کی اشد توہین و ہتک سرّ رب العٰلمین ہے۔ (فتاوٰی رضویہ، جلد 09، صفحہ 405، )
پوسٹ مارٹم کے ناجائز ہونے کی اصل یہ ہے کہ اس میں میت کو تکلیف پہنچتی ہے، جبکہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: أن رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم قال: كسر ‌عظم ‌الميت ككسره حيا۔ ترجمہ: بے شک مردہ مسلمان کی ہڈی توڑنا ایسا ہی ہے، جیسے زندہ مسلمان کی ہڈی توڑنا۔
(سنن ابی داؤد، جلد 05، صفحہ 116، مطبوعہ دار الرسالۃ العالمیہ، بیروت)
اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے مفتی محمد احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتےہیں: اس سے معلوم ہوا کہ مسلمان مردے کا پوسٹ مارٹم کرنا یا اسے مردہ خانہ رکھ کر اس کی کھال اتارنا، اس کے پرزے اڑا دینا، عرصہ تک دفن نہ کرنا سخت ممنوع ہے۔ ضروریاتِ شرعیہ اِس سے مستثنی ہیں۔ (مراٰۃ المناجیح، جلد 02، صفحہ 416)
خلاصہ: میت کا پوسٹ مارٹم اصلًا ناجائز و حرام ہے، کیونکہ اس میں میت کی بے حرمتی اور جسم کو کاٹنے وغیرہ کی صورتیں پائی جاتی ہیں۔ البتہ حقیقی ضرورتِ شرعیہ کی صورت میں بقدرِ ضرورت اس کی گنجائش ہے، اور تدفین کے بعد محض پوسٹ مارٹم کے لیے قبر کھولنا بلاعذر شرعی جائز نہیں۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ : سرفراز احمد قادری امجدی
15 ربیع النور 1448ھ 29 اگست 2026ء
 بانی و صدر محبوب الاولیاء فاؤنڈیشن لہوریا شریف ضلع سیتامڑھی بہار خطیب و امام، سنی حنفی بریلوی جامع مسجد پرسواڑا، ضلع بالاگھاٹ، ایم پی

एक टिप्पणी भेजें

और नया पुराने