غیر اللہ سے مدد مانگنا اور غیر اللہ کو پالن ہار کہنا شرعاً کیسا ہے؟

 غیر اللہ سے "مدد مانگنا" اور غیر اللہ کو "پالن ہار" کہنا شرعاً کیسا ہے؟


السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام، تابعین، تبع تابعین اور اولیائے کرام سے مدد مانگنا شرعا کیسا ہے؟ کیا یہ عقیدہ رکھتے ہوئے کہ حقیقی مددگار اور مؤثر بالذات صرف اللہ تعالیٰ ہے اور انبیائے کرام و اولیائے عظام اللہ تعالیٰ کی عطا سے مدد فرماتے ہیں، ان سے استمداد و استعانت جائز ہے؟
نیز زندہ یا وصال فرما چکے اولیائے کرام سے مدد مانگنے کے حکم میں کوئی فرق ہے یا نہیں؟ اور کسی ولی اللہ کو "پالن ہار" کہنا کیسا ہے؟ اگر عطائی معنی مراد ہوں تو کیا حکم ہے اور مستقل حقیقی معنی مراد ہوں تو کیا حکم ہوگا؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں مع حوالہ کتب جامع و مدلل جواب عنایت فرمائیں۔ سائل: اویس رضا امجدی قصودہ، ضلع جلگاؤں، مہاراشٹر

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ 
الجواب مستمدًا من فضل اللہ تعالیٰ : حقیقی مددگار اور مؤثر بالذات صرف اللہ تعالیٰ ہے، اس کے سوا کوئی بھی اپنی ذات سے مستقل طور پر نفع و ضرر پہنچانے یا حاجت پوری کرنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ البتہ اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیائے کرام، صحابہ، تابعین، تبع تابعین اور اولیائے عظام کو اپنی عطا سے اس کی مدد کا مظہر، وسیلہ اور سبب بنایا ہے، لہذا اس اعتقاد کے ساتھ انبیائے کرام و اولیائے عظام سے استمداد و استعانت کرنا کہ حقیقی مستعان اللہ تعالیٰ ہی ہے اور یہ حضرات اللہ تعالیٰ کی عطا سے مدد فرماتے ہیں، شرعا جائز ہے، اسے شرک کہنا سخت جہالت و ناانصافی ہے۔
اسی طرح اس معاملے میں زندہ اور وصال فرما چکے بزرگ کے درمیان یہ فرق کرنا کہ زندہ سے استعانت جائز اور وصال یافتہ سے شرک ہے، درست نہیں۔ اگر کسی کو مستقل بالذات مؤثر و مختار سمجھ کر مدد مانگی جائے تو یہ عقیدہ ہر ایک کے بارے میں ناجائز و شرک ہے، خواہ وہ زندہ ہو یا مردہ، قریب ہو یا دور۔ اور اگر اسے اللہ تعالیٰ کی عطا سے مظہر عون الٰہی، وسیلہ اور سبب سمجھ کر مدد مانگی جائے تو یہ معنی انبیائے کرام و اولیائے عظام کے ساتھ بھی شرک نہیں۔ بلکہ اکابر علماء نے صراحت فرمائی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور اولیائے کرام سے استمداد و استغاثہ کا معنی مسلمانوں کے نزدیک یہی ہے کہ حقیقی فریادرس اللہ تعالیٰ ہے اور نبی یا ولی اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ وسیلہ و سبب ہیں۔ رہا کسی ولی اللہ کو "پالن ہار" کہنا تو اس میں معنی کا اعتبار ہوگا۔ اگر "پالن ہار" سے مراد حقیقی، مستقل بالذات رزق دینے والا، پرورش کرنے والا اور مالک و مختار لیا جائے تو یہ معنی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہیں، کسی ولی کے لیے ایسا عقیدہ رکھنا جائز نہیں۔ اور اگر اس لفظ سے مراد یہ ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عطا سے بندوں کی حاجت روائی اور خیر رسانی کا ذریعہ، وسیلہ اور سبب ہیں تو اس معنی میں حکم شرک کا نہیں ہوگا۔ تاہم چونکہ لفظ "پالن ہار" عرف میں اللہ تعالیٰ کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، اس لیے اولیائے کرام کے لیے ایسے الفاظ استعمال کرنے سے بہتر ہے جن سے معنی بالکل واضح ہوں، مثلاً حاجت روا، مشکل کشا، فریاد رس، وسیلہ اور مظہر عون الٰہی، اور ساتھ عطائی معنی کا اعتقاد رکھا جائے۔

حضرت امام سفیان ثوری قدس سرہ النوری کی نقل قول میں مخالف نے ستم کار سازی کو کام فرمایا ہے۔ اصل حکایت شاہ عبدالعزیز صاحب کی فتح العزیز سے سنئے، لکھتے ہیں:

"شیخ سفیان ثوری رحمۃاللہ تعالٰی علیہ در نماز شام امامت میکرد ،چوں ایاک نعبد وایاک نستعین گفت بیہوش افتاد ،چوں بخود آمد گفتند اے شیخ ! تراچہ شدہ بود ؟ گفت چوں وایاک نستعین گفتم ترسیدم کہ مرا بگویند کہ اے دروغ گو ! چرا از طبیب دارو می خواہی واز امیر روزی واز بادشاہ یاری می جوئی ، ولہذا بعضے از علماء گفتہ اند کہ مرد را باید کہ شرم کند ازانکہ ہر روز وشب پنج نوبت در مواجہہ پروردگار خود استادہ دروغ گفتہ باشد ، لیکن درینجا باید فہمید کہ استعانت از غیر بوجہے کہ اعتماد برآں غیر باشد و او را مظہر عون الہی نہ داند حرام است ، واگر التفات محض بجانب حق است واو را مظاہر عون الہی دانستہ ونظربہ کارخانہ اسباب وحکمت او تعالی در آں نمودہ بغیر استعانت ظاہری نماید ، دور از عرفان نخواہد بود ،ودر شرع نیز جائز وروا ست ،وانبیاء واولیا ء ایں نوع استعانت بغیر کردہ اند ودرحقیقت ایں نوع استعانت بغیر نیست بلکہ استعانت بحضرت حق است لاغیر"

"ترجمہ : شیخ سفیان ثوری رحمۃاللہ تعالٰی علیہ نے شام کی نماز میں امامت فرمائی جب ایاک نعبد وایاک نستعین پر پہنچے بیہوش ہوکرگر پڑے، جب ہوش میں آئے تولوگوں نے دریافت کیا، اے شیخ! آپ کو کیا ہوگیا تھا؟ فرمایا: جب ایاک نستعین کہا تو خوف ہوا کہ مجھ سے یہ نہ کہا جائے اے جھوٹے، پھر طبیب سے دواکیوں لیتاہے۔ امیر سے روزی اور بادشاہ سے مدد کیوں مانگتاہے ؟ اس لئے بعض علماء نے فرمایا ہے کہ انسان کو خدا سے شرم کرنی چاہئے کہ پانچ وقت اس کے حضور کھڑا ہوکر جھوٹ بولتا ہے مگر یہاں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ غیر اللہ سے اس طرح مدد مانگنا کہ اسی پراعتماد ہو اور اس کو اللہ کی مدد کامظہر نہ جانا جائے حرام ہے اور اگر توجہ حضرت حق ہی کی طرف ہے اور اس کو اللہ کی مدد کا مظہر جانتا ہے اور اللہ کی حکمت اور کارخانہ اسباب پر نظر کرتے ہوئے ظاہری طور پر غیر سے مدد چاہتا ہے تو یہ عرفان سے دورنہیں، اورشریعت میں بھی جائز اور روا ہے اور انبیاء اور اولیاء نے ایسی استعانت کی ہے۔ اور درحقیقت یہ استعانت غیر سے نہیں ہے بلکہ یہ حضرت حق سے ہی استعانت ہے۔" فتح العزیز (تفسیر عزیزی) تفسیر سورہ فاتحہ پار الم افغانی دارالکتب دہلی ص۸

مخالف صاحب نے دیکھا کہ حکایت اگر صحیح طور پر نقل کریں تو ساری قلعی کھل جاتی ہے طبیبوں سے دوا چاہنی،امیروں سے نوکری مانگنی،بادشاہوں سے مقدمات وغیرہا میں رجوع کرنا سب شرك ہوا جاتا ہے جس میں خود بھی مبتلا ہے۔لہذا از طبیب دوا وغیرہ الفاظ کی جگہ یوں بتایا کہ "غیر حق سے مدد مانگو مجھ سے زیادہ بے ادب کون ہوگا"تاکہ جاہلوں کے بہکانے کو اسے بہ زور زبان حضرت انبیاء واولیاء علیہم السلام والثناء سے استعانت پر جمائیں اور آپ حکیم جی سے دوا کرانے،نواب راجہ کی نوکری کرنے،منصف ڈپٹی کے یہاں نالش لڑانے کو الگ بچ جائیں،سبحان اللہ کہاں وہ تبتل تام واسقاط تدبیر واسباب کامقام جس کی طرف امام رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے اس قول میں ارشاد فرمایا جس کے اہل مریض ہوں تو دوا نہ کریں۔بیماری کو کسی سبب کی طرف نسبت نہ فرمائیں،عین معرکہ جہاد میں کوڑا ہاتھ سے گر پڑے تو دوسرے سے نہ کہیں آپ ہی اتر کے اٹھائیں،اور کہاں مقام شریعت مطہرہ واحکام جواز ومنع وشرك واسلام مگران ذی ہوشوں کے نزدیك کمال تبتل وشرك متقابل ہیں کہ جو اس اعلٰی درجہ انقطاع محض وتفویض تام پر نہ ہوا مشرك ٹھہرایا،انا للہ وانا الیہ راجعون

ذرا آنکھیں کھول کردیکھو،اسی حکایت کے بعد شاہ صاحب نے کیسی تصریح فرمادی کہ استعانت بالغیروہی ناجائزہے کہ اس غیر کو مظہر عون الٰہی نہ جانے بلکہ اپنی ذات سے اعانت کا مالك جان کر اس پر بھروسا کرے،اور اگر مظہر عون الٰہی سمجھ کر استعانت بالغیر کرتاہے تو شرك وحرمت بالائے طاق،مقام معرفت کے بھی خلاف نہیں خود حضرات انبیاء واولیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام نے ایسی استعانت بالغیر کی ہے۔

مسلمانو! مخالفین کے اس ظلم وتعصب کا ٹھکانا ہے کہ بیمار پڑیں تو حکیم کے دوڑیں،دوا پر گریں،کوئی مارے پیٹے تو تھانے کو جائیں،رپٹ لکھائیں،ڈپٹی وغیرہ سے فریاد کریں،کسی نے زمین دبالی کہ تمسك کا روپیہ نہ دیا تو منصف صاحب مدد کیجیو،جج بہادر خبر لیجیو،نالش کریں،استغاثہ کریں،غرض دنیا بھر سے استعانت کریںِ اور حصر ایاك نستعین کو اس کے منافی نہ جانیں،ہاں انبیاء واولیاء علیہم الصلٰوۃ والثناء سے استعانت کی اور شرك آیا،ان کاموں کے وقت آیت کاحصر کیوں نہیں یاد آتا،وہاں تو یہ ہے کہ ہم خاس تجھی سے استعانت کرتے ہیں،کیا مخالفین کے نزدیک"خاص تجھی"میں بید، حکیم، تھانیدار، جمعدار، ڈپٹی، منصف، جج وغیرہ سب آگئے کہ یہ اس حصر سے خارج نہ ہوئے،یا معاذا اللہ آیہ کریمہ کا حکم ان پر جاری نہیں،یہ خدا کے ملك سے کہیں الگ بستے ہیں،ولا حول ولاقوۃ الا باللہ العلی العظیم۔

غرض مخالفین خود بھی دل میں خوب جانتے ہیں کہ آیہ کریمہ مطلق استعانت بالغیر کی اصلا ممانعت نہیں،نہ وہ ہر گز شرك یاممنوع ہوسکتی ہے بلکہ استعانت حقیقیہ ہی رب العزۃ جل وعلا سے خاص فرمائی گئی ہے اور اس کا اختصاص کسی طرح حضرات انبیاء واولیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام سے استعانت جائزہ کا منافی نہیں ہوسکتا مگر عوام بیچاروں کو بہکانے اور محبوبان خدا کا نام پاك ان کی زبان سے چھڑا نے کو دیدہ و دانستہ قرآن وحدیث کے معنی بدلتے ہیں، تو بات کیا سر کی کھلی اور دل کی بند ہیں،پاؤ تلے کی نظر آتی ہے۔ حکیم جی کو علاج کرتے،تھانیدار کو چوریاں نکالتے،نواب راجہ کو نوکریاں دیتے،ڈپٹی منصف کو مقدمات بگاڑتے سنبھالتے، آنکھوں دیکھ رہے ہیں،ان کہ امداد و اعانت سے کیونکر منکر ہوں اور حضرات علیہ انبیاء واولیاء علیہم الـصلٰوۃ والثناء سے جو باطن وظاہر قاہر وباہر مددیں پہنچ رہیں ہیں،وہ نہ دل کے اندھوں کو سوجھیں اور نہ ہی اپنے نصیبے میں ان کی برکات کا حصر سمجھیں پھر بلا کیونکر یقین لائیں،جیسے معتزلہ خذلہم اللہ تعالٰی کہ ان کے پیشوا ظاہری عبادتیں کرتے کرتے مرگئے،کرامات اولیاء کی اپنے میں بوند نہ پائی، ناچار منکر ہوگئے   ع

چونہ دید ندحقیقت رہ افسانہ زدند (جب انھوں نے حقیقت کو نہ سمجھا تو افسانہ کی راہ اختیار کی۔ت) پھر ان حضرات کو ڈپٹی،منصف،حکیم سے خود بھی کام پڑتا رہتاہے ان سے استعانت کیونکر شرك کہیں،معہذا ان لوگوں سے کوئی کاوش بھی نہیں۔دل میں آزار تو حضرات انبیاء واولیاء علیہم افضل الصلٰوۃوالثناء سے ہے۔ان کانام تعظیم ومحبت سے نہ آنے پائے ان کی طرف کوئی سچی عقیدت سے رجوع نہ لائے۔" وَ سَیَعْلَمُ الَّذِینَ ظَلَمُوا اَیَّ مُنقَلَبٍ یَنقَلِبُونَ " " (عنقریب جان جائیں گے ظالم کہ کس کروٹ پلٹا کھائیں گے۔(ت)

فائدہ مہمّہ مخالفین بیچارے کم علموں کو اکثر دھوکا دیتے ہیں کہ یہ تو زندہ ہیں فلاں عقیدہ یا معاملہ ان سے شرك نہیں،وہ مردہ ہیں ان سے شرك ہے۔یا یہ تو پاس بیٹھے ہیں ان سے شرك نہیں،وہ دور ہیں ان سے شرك ہے وعلی ھذا القیاس طرح طرح کے بیہودہ وسواس، مگریہ سخت جہالت بے مزہ ہے جو شرك ہے وہ جس کے ساتھ کیا جائے شرك ہی ہوگا،اورایك کے لئے شرك نہیں توکسی کے لئے بھی شرك نہیں ہوسکتا،کیا اللہ کے شریك مردے نہیں زندے ہوسکتے ہیں دور کے نہیں ہوسکتے پاس کے ہوسکتے ہیں، انبیاء نہیں ہوسکتے حکیم ہوسکتے ہیں،انسان نہیں ہوسکتے۔ فرشتے ہوسکتے ہیں،حاشااللہ اللہ تبارك وتعالٰی کاکوئی شریك نہیں ہوسکتا،تو مثلا جوبات ندا خواہ کوئی شے جس اعتقاد کے ساتھ کسی پاس بیٹھے ہوئے زندہ آدمی سے شرك نہیں وہ اسی اعتقاد سے کسی دور والے یا مردے بلکہ اینٹ پتھر سے بھی شرك نہیں ہوسکتی،اور جو ان میں سے کسی سے شرك ٹھہرے وہ قطعا یقینا تمام عالم سے شرك ہوگی،اس استعانت ہی کو دیکھئے کہ جس معنی پر خدا سے شرك ہے یعنی اسے قادر بالذات ومالك مستقل جان کر مدد مانگنا۔بہ ایں معنی اگر دفع مرض میں طبیب یادوا سے استمداد کرے یا حاجت فقر میں امیر یا بادشاہ کے پاس جائے یا انصاف کرانے کو کسی کچہری میں مقدمہ لڑائے،بلکہ کسی سے روز مرہ کے معمولی کاموں ہی میں مدد لے جو بالیقین تمام مخالفین روزانہ اپنی عورتوں، بچوں،نل نوکروں سے کرتے کراتے رہتے ہیں،مثلًایہ کہنا کہ فلاں چیز اٹھا دے یا کھانا پکادے، یا پانی پلادے سب شرك قطعی ہے کہ جب یہ جانا کہ اس کام کے کر دینے پر انھیں خود اپنی ذات سے بے عطائے الٰہی قدر ت ہے تو صریح کفر اور شرك میں کیا شبہہ رہا،ال اور جس معنی پر ان سب سے استعانت شرك نہیں یعنی مظہر عون الٰہی وواسطہ و سیلہ وسبب سمجھنا اس معنی پر حضرات انبیاء واولیاء علیہم افضل الصلٰوۃ والثناء سے کیوں شرك ہونے لگی، مگر حکیم، امیر، جج، اولاد، نوکر، جورو، ان سب کو مظہر عون وسبب ووسیلہ جاننا جائز ہے۔ اور ان حضرات عالیہ کو کہ وہ اعلی مظہر واعظم سبب وافضل وسائل بلکہ منتہی الاسباب وغایۃ الوسائط ونہایۃ الوسائل ہیں، ایسا سمجھنا شرك ہوگیا، ہزار تف بریں بے عقلی وناانصافی، غرض پانی وہیں مڑتاہے کہ جو کچھ غصہ ہے۔وہ حضرات محبوبان خداکے بارے میں ہے۔ جو رو، یار، بچے مددگار، نوکر، کارگزار مگر انبیاء،واولیاء کانام آیا اور سر پر شرك کا بھوت سوار یہ کیا دین ہے۔کیسا ایمان ہے ! ولا حول ولاقوۃ الا باللہ العلی العظیم۔
مسلمین اس نکتے کو خوب محفوظ ملحوظ رکھیں،جہاں ان چالاکوں،عیاروں کو کوئی فرق کرتے دیکھیں کہ فلاں عمل یا فلاں اعتقاد فلاں کے ساتھ شرك ہے فلاں سے نہیں،یقین جان لیجئے کہ نرے جھوٹے ہیں،جب ایك جگہ شرك نہیں تو اس اعتقاد سے کسی جگہ شرك نہیں ہوسکتا،واللہ الھادی الی طریق سوی۔
فائدہ ضروریہ مخالفین جب سب طرح عاجز آجاتے ہیں اور کسی طرف راہ مفر نہیں پاتے تو ایك نیا شگوفہ چھوڑتے ہیں کہ صاحبو! ہم بھی اسی استعانت کو شرك کہتے ہیں جو غیر خدا کو قادر بالذات و مالك مستقل بے عطائے الٰہی جان کر کی جائے،اور اپنی بات بنانے اور خجلت مٹانے کو ناحق ناروا بیچارے عوام مومنین پر جیتا بہتان باندھتے ہیں کہ وہ ایسا ہی سمجھ کرانبیاء واولیاء سے استعانت کرتے ہیں ہمارایہ حکم شرك انھیں کی نسبت ہے۔اس ہار ے درجہ کی بناوٹ کا لفافہ تین طرح کھل جائے گا۔

اوّلًا: صریح جھوٹے ہیں کہ صرف اسی صور ت کو شرك جانتے ہیں ان کے امام خود تقویۃ الایمان میں لکھ گئے ہیں: "کہ پھر خواہ یوں سمجھے کہ ان کاموں کی طاقت ان کو خود بخود ہے خواہ یوں سمجھے کہ اللہ نے ان کو ایسی قدرت بخشی ہے ہرطرح شرك ہوتاہے۔"

کیوں اب کہاں گئے وہ جھوٹے دعوے۔ ثانیًا:ان کے سامنے یوں کہئے کہ یا رسول اللہ ! حضور کو اللہ تعالٰی نے اپنا خلیفہ اعظم ونائب اکرم وقاسم نعم کیا، دنیا کی کنجیاں، زمین کی کنجیاں، خزانو ں کی کنجیاں، مدد کی کنجیاں، نفع کی کنجیاں حضور کے دست مبارك میں رکھیں، روزانہ دو وقت تمام امت کے اعمال حضور کی بارگاہ میں پیش کرائے، یارسول اللہ!میرے کام میں نظررحمت فرمائے اللہ کے حکم سے میری مدد وعافیت فرمائے۔

اب ان لفظوں میں توصراحۃ قدرت ذاتی کاانکار اور مظہر عون الہٰی کی تصریح ہے ان میں تو معاذا اللہ اس ناپاك گمان کی بو بھی نہیں آسکتی،یہ کہتے جائے اور ان صاحبوں کے چہرے کو غور کرتے جائے،اگر بکشادہ پیشانی سے سنیں اور آثار کراہت وغیظ ظاہر نہ ہو جب تو خیر،اور اگر دیکھئے کہ صورت بگڑی،ناك بھوں سمٹی،منہ پر دھوئیں کی مانند تاریکی دوڑی،تو جان لیجئے کہ دلی آگ اپنا رنگ لائی کھوٹے کھرے کا پردہ کھل جائے گا چلن میں سبحان اللہ! میں عبث امتحان کو کہتا ہوں بارہا امتحان ہو ہی لیا،ان صاحبوں میں نواب دہلوی مصنف ظفر جلیل تھے، حدیث عظیم وجلیل ثابت یامحمد انی توجہت بك الی ربی فی حاجتی ھذہ لتقضی لی  کہ صحاح ستہ سے تین صحاح جامع ترمذی،سنن نسائی،سنن ابن ماجہ، میں مروی اور اکابر محدثین مثل امام ترمذی وامام طبرانی وامام بیہقی وابوعبداللہ حاکم امام عبدالعظیم منذری وغیرہم اسے صحیح فرماتے آئے ہیں جسے خود حضور پر نور سید یوم النشور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے قضائے حاجت کے لئے تعلیم،اور صحابہ و تابعین رضی اللہ تعالٰی عنہم نے زمانہ اقدس اور حضورکے بعد زمانہ امیر المومنین عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ میں حاجت روائی کا ذریعہ بنایا،اس میں کیا تھا،یہی نا کہ یار سول اللہ! میں حضور کے وسیلے سے اپنے رب کی طر ف توجہ کرتاہوں کہ وہ میری حاجت روا فرمائے، اس میں معاذا اللہ قدرت بالذات کی کہاں بو تھی جو نواب صاحب کو پسند نہ آئی کہ نہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ارشاد کا پاس نہ صحابہ وتابعین کی تعلیم وعمل کا لحاظ نہ اکابر حفاظ حدیث کی تصحیح کا خیال،سخت ڈھٹائی کے ساتھ حاشیہ ظفر جلیل پر حدیث صحیح کو بزور زبان وزور بہتان رد کرنے کے لئے عقل و شرع کی قید سے بے دھڑك بے پرکی اڑادی کہ یہ حدیث قابل حجت نہیں،انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اس واقعہ عبرت خیز کا بیان ہمارے رسالہ انھار الانوار میں ہے۔اب دیکھئے کہ نہ فقط اولیاء بلکہ خود حضور پر نور سید الانبیاء علیہ وعلیہم افضل الصلٰوۃ والثناء سے استعانت جائز ومحمودہ،خود حضور اقدس کی فرمودہ،صحابہ وتابعین کی معمولہ ومقبولہ،صحیح حدیث میں ان لوگوں کا یہ حال ہے " قُلْ مُوۡتُوۡا بِغَیۡظِکُمْؕ اِنَّ اللہَ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ﴿۱۱۹﴾" ۔ فائدہ ضروریہ

ثالثًا: سب جانے دو،سرے سے یہ ناپاك ادعاہے کہ بندگان خدا محبوبان خدا کو قادر مستقل جان کر استعانت کرتے ہیں،ایك ایسی سخت بات ہے جس کی شناعت پر اطلاع پاؤ تو مدتوں تمھیں توبہ کرنی پڑے اہل لا الہ الا اللہ پر بدگمانی حرام،اور ان کے کام کہ جس کے صحیح معنی بے تکلف درست ہوں خواہی نخواہی معاذا اللہ معنی کفر کی طرف ڈھال لے جانا قطعا گناہ کبیرہ ہے۔حق سبحانہ وتعالٰی فرماتاہے: " یٰۤاَیُّہَا الَّذِینَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوا کَثِیرًا مِّنَ الظَّنِّ۫ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ" اے ایمان والو! بہت گمانوں کے پاس نہ جاؤ،بیشك کچھ گمان گناہ ہیں۔ اور فرماتاہے: " وَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ ؕ" پیچھے نہ پڑ اس بات کے جو تجھے تحقیق نہیں۔ " اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَالْفُؤَادَکُلُّ اُولٰٓئِکَ کَانَ عَنْہُ مَسْؤُلًا ﴿۳۶﴾ " بیشك کان آنکھ،دل سب سے سوال ہوناہے۔

اور فرماتاہے: " لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوۡہُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بِاَنفُسِہِمْ خَیرًا ۙ" کیوں نہ ہوا کہ جب تم نے اسے سنا تو مسلمان مردوں عورتوں نے اپنی جانوں یعنی اپنے بھائی مسلمانوں پر نیك گمان کیاہوتا۔ اور فرماتاہے: " یَعِظُکُمُ اللہُ اَن تَعُودُوا لِمِثلِہِۤ اَبَدًا اِن کُنتُم مُّؤمِنِینَ ﴿ۚ۱۷﴾ " اللہ تمھیں نصیحت فرماتاہے کہ اب ایسا نہ کرنا اگرایمان رکھتے ہو۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث   رواہ مالك و البخاری ومسلم وابوداؤد والترمذی۔ گمان سے بچو کہ گمان سب سے بڑھ کر جھوٹی بات ہے۔ (اسے امام مالک، بخاری، مسلم، ابوداؤ، اور ترمذی نے روایت کیا۔ت)

اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم: افلا شققت عن قلبہ  رواہ مسلم وغیرہ۔ تو نے اس کا دل چیر کر کیوں نہ دیکھا(اسے امام مسلم وغیرہ نے روایت کیا۔ت) علماء کرام فرماتے ہیں کلمہ گو کے کلام میں اگر ننانوے۹۹ معنی کفر کے نکلیں اور ایک تاویل اسلام کی پیدا ہو تو واجب ہے اسی تاویل کو اختیار کریں اور اسے مسلمان ٹھہرائیں کہ حدیث میں آیا ہے۔

الاسلام یعلو ولایعلٰی  رواہ الرؤیانی اسلام غالب رہتا ہے اور مغلوب نہیں کیا جاتا، والدار قطنی والبیہقی والضیاء والخلیل عن عائذ بن عمر المزنی رضی اللہ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم۔ (اسے رؤیائی،دارقطنی،بہیقی،ضیاء اور خلیل نے عائذ بن عمرو المزنی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کیا۔ت)

نہ کہ بلاوجہ منہ زوری سے صاف ظاہر،واضح،معلوم،معروف معنی کا انکار کرکے اپنی طرف سے ایك ملعون،مردود،مصنوع مطرود احتمال گھڑیں اور اپنے لئے علم غیب اور اطلاع حال کا دعوٰی کرکے زبردستی وہی ناپاك مرادمسلمانوں کے سر باندھیں، قیامت تونہ آئے گی،حساب تو نہ ہوگا،ان بہتانوں،طوفانوں پر بار گاہ قہار سے مطالبہ جواب تو نہ ہوگا، ہاں ہاں جواب تیار کر رکھو اس سخت وقت کے لئے جب مسلمانوں کی طرف سے جھگڑتا آئے گا،لا الہ الا اللہ ہاں اب جانا چاہتے ہیں ستمگر لوگ کہ کس پلٹے پر پلٹاکھاتے ہیں، یوں اعتبار نہ آئے تو اپنے کذب کا امتحان کرلو،اہل استعانت سے پوچھو تو کہ تم انبیاء واولیاء علیہم افضل الصلٰوۃ والسلام والثناء کو عیاذا باللہ خدا یا خدا کا ہمسر یا قادر بالذات یا معین مستقل جانتے ہو یا اللہ عزوجل کے مقبول بندے اس کی سرکار میں عزت ووجاہت والے اس کے حکم سے اس کی نعمتیں بانٹنے والے مانتے ہو،دیکھو تو تمھیں کیا جواب ملتاہے۔

اما م علامہ خاتمۃ المجتہدین تقی الملۃ والدین فقیہ محدث ناصر السنۃ ابوالحسن علی بن عبدالکافی سبکی رضی اللہ تعالٰی عنہ کتاب مستطاب شفاء السقام میں استمداد واستعانت کو بہت احادیث صریحہ سے ثابت کرکے ارشاد فرماتے ہیں: لیس المراد نسبۃ النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم الی الخلق والاستقلال بالافعال ھذا لا یقصدہ مسلم فصرف الکلام الیہ ومنعہ من باب التلبیس فی الدین و التشویش علی عوام الموحدین ۔ یعنی نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے مددمانگنے کا یہ مطلب نہیں کہ حضور انور کو خالق اور فاعل مستقل ٹھہراتے ہوں یہ تو اس معنی پر کلام کو ڈھال کر استعانت سے منع کرنا دین میں مغالطہ دینا اور عوام مسلمانوں کو پریشانی میں ڈالنا ہے صدقت یا سیدی جزاك اللہ عن الاسلام و والمسلمین خیرا،آمین!

فقیہ محدث علامہ محقق عارف باللہ امام ابن حجر مکی قدس سرہ الملکی کتاب افادت نصاب جوہر منظم میں حدیثوں سے استعانت کا ثبوت دے کر فرماتے ہیں:

فالتوجہ والاستغاثۃ بہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بغیرہ لیس لہما معنی فی قلوب المسلمین غیر ذٰلك و لایقصد بہما احد منہم سواہ فمن لم یشرح صدرہ لذٰلك فلیبك علی نفسہ نسأل اللہ العافیۃ و المستغاث بہ فی الحقیقۃ ھو اللہ و النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ واسطۃ بینہ وبین المستغیث فہو سبحٰنہ مستغاث بہ والغوث منہ خلقا وایجادا والنبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم مستغاث والغوث منہ سببا وکسبا ۔

یعنی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یا حضور اقدس کے سوا اور انبیاء واولیاء علیہم افضل الصلٰوۃ والثناء کی طرف توجہ اور ان سے فریاد کے یہی معنی مسلمانوں کے دل میں ہیں اس کے سوا کوئی مسلمان اور معنی نہیں سمجھتا ہے نہ قصد کرتا ہے تو جس کا دل اسے قبول نہ کرے وہ آپ اپنے حال پر روئے،ہم اللہ تبارك وتعالٰی سے عافیت مانگتے ہیں حقیقتا فریاد اللہ عزوجل کے حضور ہے اور نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اس کے اور اس فریادی کے بیچ میں وسیلہ و واسطہ ہیں،تو اللہ عزوجل کے حضور فریاد ہے اور اس کی فریاد رسی یوں ہے کہ مراد کو خلق وایجاد کرے اور نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے حضور فریاد ہے اور حضور کی فریاد رسی یوں ہے کہ حاجت روائی کے سبب ہوں اور اپنی رحمت سے وہ کام کریں جس کے باعث اس کی حاجت روا ہو۔ مخالف کو کریما کامصرعہ یادرہا کہ: نداریم غیر از تو فریادرس (ہم تیرے سوا کوئی فریاد کو پہنچنے والا نہیں رکھتے۔ت)

اور وہ بیشك حق ہے جس کے معنی ہم اوپر بیان کرآئے مگر یہ یاد نہ آیا کہ اس کے کبرائے طائفہ کے اکابر وعمائد حضور پر نور سیدنا ومولانا وغوثنا وماوٰینا حضرت غوث اعظم غوث الثقلین صلی اللہ تعالٰی علی جدہ الکریم وآبائہ الکرام وعلیہ وعلی مریدیہ ومحبیہ و بارك وسلم کو فریاد رس مان رہے ہیں۔ شاہ ولی اللہ صاحب ہمعات میں لکھتے ہیں:

امروز اگر کسے را مناسبت بروح خاص پیدا شود وازآں جافیض بردار غالبا بیروں نیست از آنکہ ایں معنی بہ نسبت پیغمبر صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم باشد یا بہ نسبت حضرت امیر المومنین علی کرم اللہ وجہہ یا بہ نسبت غوث الاعظم جیلانی رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔ (آج اگر کسی کو روح خاص سے مناسبت پیدا ہوجائے اور وہاں سے فیضیاب ہوتو غالبا بعیدنہیں کہ یہ کمال حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی مناسبت سے حاصل ہوا ہوگا یا بہ نسبت غوث الاعظم جیلانی رضی اللہ تعالٰی عنہ ملا ہوگا۔ت)

شاہ عبدالعزیز صاحب تفسیر عزیزی میں حضرت اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی محبوبیت بیان کرکے فرماتے ہیں: ایں مرتبہ ازاں مراتب است کہ ہیچکس رااز بشر نہ دادہ اند،مگر بہ طفیل ایں محبوبے برخے ازا ولیاء امت اورا شمہ محبوبیت آں نصیب شدہ مسجود خلائق ومحبوبیت دلہا گشتہ اند مثل حضرت غوث الاعظم وسلطان المشائخ حضرت نظام الدین اولیاء قدس اللہ سرہما ۔ (یہ وہ مرتبہ ہے جو کسی انسان کو نصیب نہ ہوا،ہاں حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے طفیل سے اس کا کچھ حصہ اولیائے امت تك پہنچا،پھر یہ حضرات اس کی برکت سے مسجودخلائق اور محبوب قلوب ہوئے جیسے حضرت غوث الاعظم اور سلطان المشائخ حضرت نظام الدین اولیاء قدس اللہ سرہما" (فتاویٰ رضویہ شریف جلد 21 ص 326 تا 334)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ :  سرفراز احمد قادری امجدی
15 ربیع النور 1448ھ 29  اگست 2026ء
 بانی و صدر محبوب الاولیاء فاؤنڈیشن لہوریا شریف ضلع سیتامڑھی بہار خطیب و امام، سنی حنفی بریلوی جامع مسجد پرسواڑا، ضلع بالاگھاٹ، ایم پی

एक टिप्पणी भेजें

और नया पुराने