غیر مسلم کے ہوٹل میں مسلمان سے خریدے ہوئے گوشت کی حلت کا حکم کیا ہے؟
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسلہ کے بارے میں کہ زید ایک غیر مسلم کے ہوٹل میں گوشت کھاتا ہے اور ہوٹل والا کہتا ہے کہ میں گوشت مسلمان کے پاس سے لاتا ہوں یہ حلال ذبیحہ ہے تو اس غیر مسلم کی بات مان کر گوشت کھانا کیسا ہے اور جو کھالیا اس پر کیا حکم ہے اور اس کے لیے فدیہ بھی دینا ہوگا اور وہ مسلمان بھی کہتا ہے کہ میں ہی اس ہوٹل میں گوشت دیتا ہوں تو ہوٹل والے پر یقین کرکے کھانا کیسا ہے قرآن و حدیث کے روشنی میں جواب عنایت فرمائیں سائل :- ناصر رضا ضلع :- سیوان بہار
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ
الجواب مستعینًا باللہ تعالیٰ : حلال جانور کا شرعی طریقے سے ذبح شدہ گوشت کھانا جائز ہے، خواہ وہ مسلمان کے ہوٹل سے ملے یا غیر مسلم کے ہوٹل سے، بشرطیکہ اس کے حلال ہونے کا معتبر ثبوت موجود ہو۔ صورت مسئولہ کا حکم: اگر غیر مسلم ہوٹل والا صرف یہ کہے کہ "میں مسلمان کے پاس سے گوشت لاتا ہوں" تو محض اس کے قول پر گوشت کی حلت ثابت نہیں ہوگی۔ لیکن اگر وہ کسی مسلمان سے گوشت خریدنے یا مسلمان کی طرف سے گوشت لانے کی خبر دے اور قرائن سے اس کے جھوٹ بولنے کا شبہ نہ ہو، بلکہ اس کے سچا ہونے کا غالب گمان ہو، تو اس کی خبر معاملات کے ضمن میں معتبر ہوگی اور گوشت کھانا جائز ہوگا۔ اگر مسلمان شخص بھی تصدیق کرے کہ وہی اس ہوٹل میں گوشت فراہم کرتا ہے اور گوشت شرعی ذبیحہ ہے، تو اس کی خبر پر اعتماد کرکے گوشت کھانا جائز ہے۔ جو گوشت اس طرح معتبر خبر کی بنیاد پر کھایا گیا ہو، اس پر گناہ یا فدیہ لازم نہیں۔ البتہ اگر جان بوجھ کر حرام گوشت کھایا ہو تو توبہ و استغفار لازم ہے، مگر اس پر کوئی مخصوص فدیہ نہیں۔
جیسا کہ سیدی سرکار اعلیٰ حضرت، مجدد اعظم دین و ملت، امام اہلسنت، امام احمد رضا خاں فاضلِ بریلوی نور اللہ مرقدہ تحریر فرماتے ہیں : اگر قرائن کی رو سے اس کافر کے اس قول میں شك پیدانہ ہو، ظن غالب اس کے صدق ہی کاہو، تو مسلمان کے لئے اس ذبیحہ کے کھانے میں کوئی حرج نہیں کہ ہدیہ لانا از قبیل معاملات ہے اور معاملات میں کافر کی بات مقبول، او ر جب یہ مان لیا گیا کہ یہ ذبیحہ فلاں مسلم کا بھیجا ہوا ہے، تو اس کے ضمن میں حلت بھی مسلم ہوگئی، اگر چہ ابتداء حلت، حرمت، طہارت، نجاست وغیرہا امور خالصہ دینیہ میں کافرکا قول مقبول نہیں۔ ہدایہ میں ہے:
من ارسل اجیرا لہ مجوسیا اوخادما فاشتری لحما فقال اشتریتہ من یہودی اونصرانی اومسلم وسعہ اکلہ، لان قول الکافر مقبول فی المعاملات الخ ۔ جس نے اپنا مجوسی مزدور یا خادم گوشت خریدنے بھیجا تو اس نے واپس آکر کہا میں نے یہودی یا نصرانی یا مسلمان سے خریدا ہے تو مزدور یا غلام کا خریدا ہوا گوشت کھاناجائز ہے کیونکہ معاملات میں کافر کا قول مقبول ہے۔
تبیین الحقائق ودرمختارمیں ہے:
المعاملات یقبل فیہا خبر کل ممیز حرا کان اوعبدا مسلما کان اوکافرا، کبیرا او صغیرا لعموم الضرورۃ فان الانسان قلما یجد المستجمع لشرائط العدالۃ لیعاملہ اویستخدمہ اویبعثہ الی وکلائہ ونحوذٰلك و لا دلیل مع السامع یعمل بہ سوی الخبیر الخ۔ معاملات میں ہر باتمیز شخص کی بات مقبول ہے، وہ آزاد ہو یا غلام مسلمان ہو یاکافر ، وہ بڑا ہو یا نابالغ ہو کیونکہ ضرورت عام چیزہے جبکہ انسان معاملہ یا خدمت لینے یا اپنے وکلاء کے پاس بھیجنے کے لئے شرائط عدالت پر پورا اترنے والے کو بہت کم پاتا ہے اور سامع کے پاس خبر کے علاوہ کوئی دلیل نہیں ہوتی، جس پر عمل کیا جائے۔ (فتاویٰ رضویہ شریف جلد 22 ص 287)
جیسا کہ سیدی سرکار صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی نور اللہ مرقدہ تحریر فرماتے ہیں : اپنے نوکر یا غلام کو گوشت لانے کے لیے بھیجا، اگرچہ یہ مجوسی یا ہندو ہو وہ گوشت لایا اور کہتا ہے کہ مسلمان یا کتابی سے خرید کر لایا ہوں تو یہ گوشت کھایا جاسکتا ہے اور اگر اس نے آ کریہ کہا کہ مشرک مثلاً مجوسی یا ہندو سے خرید کر لایا ہوں تو اس گوشت کا کھانا حرام ہے کہ خریدنا بیچنا معاملات میں ہے اور معاملات میں کافر کی خبر معتبر ہے، اگر چہ حلَّت و حرمت دِیانات میں سے ہیں اور دیانات میں کافر کی خبر نامقبول ہے، مگر چونکہ اصل خبر خریدنے کی ہے اور حلت و حرمت اس مقام پر ضمنی چیزہے، لہٰذا جب وہ خبر معتبر ہوئی تو ضمناًیہ بھی ثابت ہوجائے گی اور اصل خبر حلت و حرمت کی ہوتی تو نامعتبر ہوتی۔ (بہار شریعت حصہ 16 ص 401)
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ : سرفراز احمد قادری امجدی
24 ربیع النور 1448ھ 7 ستمبر 2026ء
بانی و صدر محبوب الاولیاء فاؤنڈیشن لہوریا شریف ضلع سیتامڑھی بہار خطیب و امام، سنی حنفی بریلوی جامع مسجد پرسواڑا، ضلع بالاگھاٹ، ایم پی
Tags
متفرق مسائل
