چچا زاد بھائی کی بیٹی سے نکاح کرنا اور نابالغ بچے کے پیشاب کے بعد پاکی حاصل کرنے کا کیا حکم ہے؟


چچا زاد بھائی کی بیٹی سے نکاح کرنا اور نابالغ بچے کے پیشاب کے بعد پاکی حاصل کرنے کا کیا حکم ہے؟
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ امید کرتا ہوں اپ خیریت سے ہوں گے حضرت اپ کی بارگاہ میں ایک سوال عرض تھا سوال یہ ہے چاچا زاد بھتیجی یعنی چاچا زاد بھائی کی بیٹی سے نکاح کر سکتے ہے دوسرا سوال یہ ہے جو   نابالغ بچے ہوتے ہیں اگر وہ پیشاب کریں اور اس کے بعد کمر کے نیچے سے دھو لیں تو کیا اس حالت میں نماز اور قرآن پڑھ سکتے ہیں سائل   محمد آصف رضا قادریپتہ ضلع۔ بریلی شریف تحصیل۔ فریدپر موضع نگوان

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوہاب : چچا زاد بھائی حقیقی بھائی نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کی بیٹی بھتیجی کے حکم میں ہوتی ہے۔ چچا زاد بھائی کی بیٹی سے نکاح شرعا جائز ہے، بشرطیکہ رضاعت یا مصاہرت وغیرہ کی کوئی دوسری شرعی ممانعت موجود نہ ہو۔
لہذا صورت مسئولہ میں چچا زاد بھائی کی بیٹی سے نکاح کرنے میں شرعا کوئی حرج نہیں۔ خود حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے چچا زاد بھائی تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شہزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا، لہذا سوال میں مذکورہ رشتے میں شرعا کوئی ممانعت نہیں۔دوسرا سوال: نابالغ بچے کے پیشاب کے بعد پاکی کا حکم دودھ پیتے لڑکے اور لڑکی کا پیشاب بھی نجاست غلیظہ ہے۔ اگر بچے نے پیشاب کیا اور نجاست کمر کے نیچے کے حصے میں لگی ہے تو صرف کمر سے نیچے کا وہ حصہ دھو لینے سے پاکی حاصل ہوجائے گی۔ بدن یا کپڑے کے جس حصے پر نجاست لگی ہو، اسے پاک کرنا ضروری ہے۔ اگر نجاست بدن یا کپڑے پر نہیں لگی تو صرف شرم گاہ دھونا کافی ہے۔ لہذا اگر کمر کے نیچے کا حصہ دھو لیا گیا اور نجاست دور ہوگئی تو وضو کرکے نماز پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید کی تلاوت بھی کرسکتے ہیں۔

جیسا کہ سیدی سرکار اعلیٰ حضرت، مجدد اعظم دین و ملت، امام احمد رضا خاں فاضلِ بریلوی نور اللہ مرقدہ تحریر فرماتے ہیں : ان سب صورتوں میں یعنی اپنے حقیقی چچاکی بیٹی یا چچا زاد بھائی کی بیٹی یاغیر حقیقی دادا کی اگرچہ وہ حقیقی داداکا حقیقی بھائی ہو ، اور رشتے کی بہن جو ماں میں ایك نہ باپ میں شریك نہ باہم علاقہ رضاعت جیسے ماموں خالہ پھوپھی کی بیٹیاں یہ سب عورتیں شرعًا حلال ہیں جبکہ کوئی مانع نکاح مثل رضاعت ومصاہرت قائم نہ ہو۔  قال ﷲ تعالٰی  وَ اُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمْ  ۔ الله تعالٰی نے فرمایا : محرمات کے علاوہ عورتیں تمھارے لیے حلال ہیں۔ نقایہ میں ہے :  حرم اصلہ وفرعہ وفرع اصلہ القریب وصلبیۃ اصلہ للبعید  ۔ مرد پر اس کے اصول وفروع اور اصل قریب(ماں باپ مگر وہ عورت کے محارم نہیں ہوجاتے کہ ان سے نکاح صرف اس حالت تك حرام جب تك اس کی پھوپھی یا خالہ یا بہن یاکوئی محرم عورت ان کے نکاح میں ہے بعد افتراق بموت یا طلاق ان کے شوہروں سے عورت کانکاح حلال ہے اور محرم وہ ہوتا ہے جس سے کبھی کسی حال میں نکاح نہ ہوسکے اس کی حرمت ابدیہ ہو جیسے باپ ، بیٹا ، بھائی ، بھتیجا ، بھانجا ، وغیرہم ، اور جو محرم نہیں وہ اجنبی ہے اس سے پردہ کا ویسا ہی حکم ہے جیسے اجنبی سے خواہ فی الحال اس سے نکاح ہوسکتا ہو یا نہیں۔ اگر حرمت فی الحال عدم پردہ کے لیے کافی ہوتو چاہئے کہ زن شوہر کا تمام جہان میں سے کسی سے پردہ نہ ہو کہ جب تك وہ اپنے شوہر کے عقد عصمت میں ہے کسی کو اس سے نکاح روا نہیں۔ قال ﷲ تعالٰی :  وَّ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ    (منکوحہ عورتیں حرام ہیں۔ ت) اس طرح جس مردکے نکاح میں چار عورتیں موجود ہوں چاہئے کہ اس سے کسی عورت شوہر دار خواہ بے شوہر کا پردہ نہ ہو کہ جب تك ان چار میں سے کسی سے بذریعہ موت یا طلاق جدائی نہ ہو پانچواں نکاح اسے حلال نہیں ، غرض یہ سب ہندی ہوسیں اور جاہلانہ رسمیں ہیں ، شرع مطہر میں پھوپھا اور خالو اور بہنوئی اور جیٹھ اور دیور اور چچا ، پھوپھی ، خالہ ، ماموں کے بیٹوں اور راہ چلتے اجنبی سب کا ایك حکم ہے نہ وہ بے تکلف گھر میں آسکتا ہے بخلاف ان کے ، ولہذا حدیث میں ہے حضور سید عالم   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   سے عرض کی گئی یا رسول ﷲ ارأیت الحمو یا رسول اللہ! جیٹھ دیور کا حکم ارشاد ہو ، فرمایا : الحمو موت   یہ تو موت ہیں ، والعیاذ بالله تعالٰی ، اس بیان سے تمام مراتب سوال کا جواب منکشف ہوگیا"۔ (فتاویٰ رضویہ شریف جلد 11 ص 417، 418)

جیسا کہ سیدی سرکار صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی نور اللہ مرقدہ تحریر فرماتے ہیں : دودھ پیتے لڑکے اورلڑکی کا پیشاب نَجاستِ غلیظہ ہے۔ یہ جو اکثر عوام میں   مشہور ہے کہ دودھ پیتے بچوں   کا پیشاب پاک ہے محض غلط ہے۔ (بہار شریعت حصہ 2 ص 393)

دودھ پیتے لڑکے اور لڑکی کا ایک ہی حکم ہے کہ ان کا پیشاب کپڑے یا بدن میں   لگا ہے، تو تین بار دھونا اور نچوڑنا پڑے گا۔ (بہار شریعت حصہ 2 ص 402)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
کتبہ : سرفراز احمد قادری امجدی
21 ربیع النور 1448ھ 4 ستمبر 2026ء
 بانی و صدر محبوب الاولیاء فاؤنڈیشن لہوریا شریف ضلع سیتامڑھی بہار خطیب و امام، سنی حنفی بریلوی جامع مسجد پرسواڑا، ضلع بالاگھاٹ، ایم پی

एक टिप्पणी भेजें

और नया पुराने