جمعہ کے خطبہ سے پہلے بیان کے دوران اذان ثانی دینا اور بیان میں پانچ دس منٹ تاخیر کرنا کیسا ہے؟


جمعہ کے خطبہ سے پہلے بیان کے دوران اذان ثانی دینا اور بیان میں پانچ دس منٹ تاخیر کرنا کیسا ہے؟
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ امید کرتا ہوں اپ خیریت سے ہوں گے آپ کی بارگاہ میں ایک سوال عرض تھا اور سوال یہ ہے کہ جمعہ کے دن خطیب تقریر کر رہا تھا کہ ابھی تقریر ختم نہیں ہوئی تھی موذن  نے اذان ثانی پڑھ دی تو کیا اس نے گناہ کیادوسرا سوال یہ کہ امام صاحب اکثر و بیشتر جمعہ میں تقریر کرتے ہوئے جو جمعہ کا ٹائم ہوتا ہے اس سے آگے نکل جاتے ہیں مثلا ایک بجے خطبہ کا ٹائم ہے اور امام صاحب ایک بج کر پانچ منٹ یا دس منٹ پر تقریر ختم کرتے ہیں تو ایسا کرنا درست ہے یا پھر نہیں ایک سوال خطیب ابھی ممبر پر نہیں پہنچا اور موذن نے اذان ثانی پڑھ دی تو ایسا کرنا کیسا ہے مطلب  کیا موذن نے غلط کیا اس پر کوئی حکم شرح بنتا ہے برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں اپ کی بڑی مہربانی ہوگی جزاک اللہ خیرا  جواب باحوالہ عطا فرمائے  آپ کی بڑی مہربانی ہوگی المتفتی محمد شاہنواز نجیب آباد

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوہاب : صورت مسئولہ میں جمعہ کے خطبہ سے پہلے جو اردو بیان یا تقریر کی جاتی ہے، وہ خطبہ جمعہ سے الگ ہے۔ لہذا اگر خطیب بیان کر رہا ہو اور ابھی خطبہ کے لیے منبر پر نہیں بیٹھا تو اس دوران اذان ثانی دینا سنت کے مطابق نہیں، کیونکہ حدیث شریف میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب منبر پر تشریف لاتے تو پہلے بیٹھتے، پھر مؤذن اذان دیتا اور اس کے بعد حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرماتے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت فرماتے ہیں: "كان النبي صلى الله عليه وسلم يخطب خطبتين : كان يجلس إذا صعد المنبر حتى يفرغ ، أراه قال : المؤذن، ثم يقوم فيخطب..." ترجمہ: نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم دو خطبے ارشاد فرماتے تھے۔ جب منبر پر تشریف لاتے تو پہلے بیٹھتے، مؤذن اذان دیتا، پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوکر خطبہ ارشاد فرماتے۔ (سنن ابی داؤد، کتاب الجمعۃ، باب الجلوس اذا صعد المنبر، جلد 1، ص 355، مطبوعہ دارالفکر، بیروت)

حضور صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی نور اللہ مرقدہ تحریر فرماتے ہیں: "خطیب جب منبر پر بیٹھے تو اس کے سامنے دوبارہ اذان دی جائے۔"(بہار شریعت، حصہ 4، ص 780) لہذا خطیب کے منبر پر بیٹھنے سے پہلے، یعنی بیان کے دوران، اذان ثانی دینا خلاف سنت ہے۔ مؤذن کو چاہیے کہ خطیب کے منبر پر بیٹھنے کا انتظار کرے، پھر اذان دے۔ رہا یہ مسئلہ کہ جمعہ کا وقت مثلاً ایک بجے مقرر ہے اور خطیب بیان کرتے کرتے ایک بج کر پانچ یا دس منٹ تک پہنچ جاتا ہے تو محض پانچ یا دس منٹ کی تاخیر کی وجہ سے اسے ناجائز یا گناہ گار قرار نہیں دیا جائے گا، بشرطیکہ جمعہ کی نماز اپنے مقررہ شرعی وقت کے اندر ادا کی جائے۔ البتہ بلا ضرورت بیان کو طول دینا اور نمازیوں کو مشقت میں مبتلا کرنا مناسب نہیں۔ امام و واعظ کو حاضرین کے حالات اور ان کی ضروریات کا لحاظ رکھنا چاہیے۔

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : ’’ كان النبي صلى اللہ عليه وسلم يخطب خطبتين : كان يجلس إذا صعد المنبر حتى يفرغ ، أراه قال : " المؤذن " ثم يقوم فيخطب ، ثم يجلس فلا يتكلم ، ثم يقوم فيخطب ‘‘ ترجمہ : نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم دو خطبے ارشاد فرماتے تھے ۔ جب منبر پر چڑھتے ، تو ( پہلے ) بیٹھتے ، موذن ( اذان ) کہتا ، پھر سرکار علیہ الصلوٰۃ و السلام کھڑے ہوتے اور خطبہ ارشاد فرماتے ، پھر بیٹھتے ، تو کوئی کلام نہ فرماتے ، پھر کھڑے ہوتے اور خطبہ ارشاد فرماتے ۔ (سنن ابی داؤد ، کتاب الجمعۃ ، باب الجلوس اذا صعد المنبر ، جلد 1 ، صفحہ 355 ، مطبوعہ دار الفکر ، بیروت)

حضور صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی نور اللہ مرقدہ تحریر فرماتے ہیں : خطیب جب منبر پر بیٹھے تو اس کے سامنے دوبارہ اذان دی جائے۔  (متون) یہ ہم اوپر بیان کر آئے کہ سامنے سے یہ مراد نہیں  کہ مسجد کے اندر منبر سے متصل ہو کہ مسجد کے اندر اذان کہنے کو فقہائے کرام مکروہ فرماتے ہیں ۔ (بہار شریعت حصہ 4 ص 780)

اور حضور فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی نور اللہ مرقدہ تحریر فرماتے ہیں :  "حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ جب حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن منبر پر تشریف رکھتے تو حضور کے سامنے مسجد کے دروازہ پر اذان ہوتی اور ایسا ہی حضرت ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما کے زمانہ میں بھی رائج تھا۔ (ابو داؤد شریف جلد اول‘ ص ۱۶۲) اور حضرت علامہ سلیمان جمل رحمۃ اللہ علیہ آیت کریمہ: اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوۃِ الخ کی تفسیر میں لکھتے ہیں: اذا جلس علی المنبر اذن علی باب المسجد۔ یعنی جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے روز منبر پر تشریف رکھتے تو مسجد کے دروازہ پر اذان پڑھی جاتی تھی (تفسیر جمل جلد چہارم ‘ ص۳۴۳) قرآن مجید کی تفسیر اور حدیث شریف سے واضح طور پر معلوم ہو گیا کہ خطبہ کی اذان مسجد کے باہر پڑھنا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی سنت ہے۔ اسی لئے فقہائے کرام مسجد کے اندر اذان پڑھنے سے منع فرماتے ہیں جیسا کہ فتاویٰ قاضی خان جلد اوّل مصری ص۵۵ اور بحرالرائق جلد اوّل ص ۲۶۸ میں ہے: لا یؤذن فی المسجد۔ یعنی مسجد میں اذان پڑھنا منع ہے اور فتح القدیر جلد اوّل ص ۲۱۵ میں ہے: قالوا لایؤذن فی المسجد۔ یعنی فقہائے کرام نے فرمایا کہ مسجد کے اندر اذان نہ پڑھی جائے اور طحطاوی علی مراقی الفلاح ص ۲۱۷ میں ہے: یکرہ ان یؤذن فی المسجد کما فی القہستانی عن النظم۔ یعنی مسجد کے اندرونی حصہ میں اذان دینا مکروہ ہے اسی طرح سے قہستانی میں نظم سے ہے……خداعزوجل لوگوں کو ہٹ دھرمی سے بچائے اور تفسیرو حدیث نیز فقہ کی کتابوں پر عمل کرنے کی توفیق بخشے آمین۔ بحرمۃ سید المرسلین صلوات اللّٰہ" (فتاویٰ فیض الرسول جلد 3 و 170)

فتاویٰ حافظ ملت میں رقم ہے : "نماز اور اذان کے اوقات جو مقرر کر دیے جاتے ہیں وہ لوگوں کی آسانی کے لیے ہے ، اگر سارے نمازی جو اس مسجد میں نماز پڑھنے کے عادی ہیں جمع ہو جائیں تو امام کو خطبہ اور نماز شروع کر دینی چاہیے یہی بہتر ہے ،خصوصاً ایسی صورت میں جب کہ نمازیوں میں ملازم بھی ہوں  جنھیں محدود وقت کے لیے نماز پڑھنے کی اجازت ملتی ہے لیکن اگر کسی اہم ضرورت کی بنا پر تاخیر ہو جائے تو گناہ بھی نہیں ۔ واعظ اور امام کو لازم ہے کہ وہ حاضرین کی ضرورتوں اور ان کے احوال کا خیال کریں، نماز میں قدر مسنون سے زائد قراءت کرنے پر حضور ﷺ نے صحابۂ  کرام پر عتاب فرمایا اور ارشاد فرمایا ہے: إذا صلی أحدکم للناس فلیخفف فإن منہم الضعیف والسقیم وإذا صلی أحدکم لنفسہ فلیطول ما شاء‘‘
امام نے ایک مسلمان کو منافق کہا ، امام پر فرض ہے کہ اس مسلمان سے معافی مانگے اور توبہ کرے، اگر امام اس مسلمان سے معافی نہ مانگے تو بہ نہ کرے تو اس کے پیچھے نماز پڑھنی جائز نہیں۔ اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے، اسے امامت سے معزول کرنا واجب ہے۔ حدیث میں ہے: ’’سباب المسلم فسوق۔ غنیہ میں ہے: ’’لو قدموا فاسقا یاثمون بناءً علی أن کراہۃ تقدیمہ کراھۃ تحریم‘‘۔ در مختار میں ہے: ’’کل صلاۃ أدیت مع کراہۃ التحریم تجب إعادتہا‘‘(فتاویٰ حافظ ملت جلد 2 ص 167)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ : سرفراز احمد قادری امجدی
17 ربیع النور 1448ھ 31  اگست 2026ء
 بانی و صدر محبوب الاولیاء فاؤنڈیشن لہوریا شریف ضلع سیتامڑھی بہار خطیب و امام، سنی حنفی بریلوی جامع مسجد پرسواڑا، ضلع بالاگھاٹ، ایم پی

एक टिप्पणी भेजें

और नया पुराने