منقبت حضور سیدنا غوث اعظم
سرکارِ غوثِ اعظم! نظرِ کرم خدارا
میرا خالی کاسہ بھر دو میں فقیر ہوں تمہارا
جھولی کو میری بھر دو ورنہ کہے گی دنیا
ایسے سخی کا منگتا پھرتا ہے مارا مارا
سب کا کوئی نہ کوئی دنیا میں آسرا ہے
میرا بجز تمہارا کوئی نہیں سہارا
مولا علی کا صدقہ، گنجِ شکر کا صدقہ
میری لاج رکھ لو یا غوث! میں فقیر ہوں تمہارا
دامن پسارے در پہ لاکھوں ولی کھڑے ہیں
ہوتا ہے تیرے در سے کونین کا گزارا
میراں بنے ہیں دولہا محفل سجی ہوئی ہے
سب اولیاء ہیں باراتی، کیا خوب ہے نظارہ
یہ تیرا کرم ہے یا غوث! کہ بلا لیا ہے در پر
کہاں روسیاہ فریدی! کہاں آستاں تمہارا!
Tags
منقبت غوث اعظم