منقبتِ غوثِ اعظم
اگر ہو جائے مجھ پر بھی عنایت غوثِ اعظم کی
کروں بغداد میں جا کر زیارت غوثِ اعظم کی
قدم ان کا تمامی اولیاء کی گردنوں پر ہے
بڑھائی اس قدر مولیٰ نے عظمت غوثِ اعظم کی
مصیبت میں کہا یا غوثِ اعظم المدد جس دم
مجھے حاصل ہوئی فوراً حمایت غوثِ اعظم کی
منور قلب اس کا عشقِ شاہِ دیں سے ہوتا تھا
سنا کرتا تھا جو کوئی خطابت غوثِ اعظم کی
دعا یہ مانگتے ہیں ان کے چاہنے والے
رہے یا رب ہمیشہ دل میں چاہت غوثِ اعظم کی
ہمیں بہکا نہیں سکتا کوئی نجمی زمانے میں
ہمارے دل پہ چلتی ہے حکومت غوثِ اعظم کی
ذرا بھی غم نہ کر اے شارقِ عاصی، قیامت کا
تری بخشش کو کافی ہے شفاعت غوثِ اعظم کی
Tags
منقبت غوث اعظم
