آرٹیفیشل جیولری اور عمومِ بلویٰ: ایک تحقیقی جائزہ
(قسط چہارم)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علیٰ سید المرسلین، وعلیٰ آلہٖ واصحابہٖ اجمعین۔
گزشتہ تین اقساط میں ہم نے آرٹیفیشل جیولری کی حقیقت، اس کی مختلف اقسام، عرفِ عام، تعامل اور عمومِ بلویٰ کے مفہوم پر گفتگو کی۔ یہ واضح کیا گیا کہ محض کسی چیز کا عام ہوجانا عمومِ بلویٰ نہیں، بلکہ اس کے لیے عمومی ابتلاء، عوام و خواص کی گرفت اور اس سے بچنے میں معتد بہ حرج و مشقت کا پایا جانا بھی ضروری ہے۔
اب مناسب ہے کہ اس اصولی بحث کے بعد اصل شرعی حکم کی طرف آیا جائے۔ آرٹیفیشل زیور ایک حکم نہیں سب سے پہلے یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ آرٹیفیشل جیولری کوئی شرعی اصطلاح نہیں بلکہ عرفی نام ہے۔
اس لیے صرف یہ کہہ دینا کہ ’’یہ آرٹیفیشل زیور ہے‘‘ اس کے جواز یا عدمِ جواز کے لیے کافی نہیں۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ وہ زیور کس چیز کا بنا ہوا ہے، اس کی ظاہری و باطنی کیفیت کیا ہے، اور فقہائے کرام نے اس مادے کے بارے میں کیا حکم بیان فرمایا ہے۔اسی لیے کانچ، لاکھ، پلاسٹک، ربڑ اور مصنوعی موتیوں کو لوہے، تانبے اور پیتل کے زیورات کے ساتھ ایک ہی حکم میں رکھنا درست نہیں۔
کانچ اور لاکھ کی چوڑیاں اس سلسلے میں سب سے پہلے ایک واضح فقہی نظیر سامنے آتی ہے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے کانچ کی چوڑیوں کے متعلق سوال ہوا تو ارشاد فرمایا: جائز ہیں لعدم المنع الشرعی ،، یعنی شرعی ممانعت نہ ہونے کی وجہ سے جائز ہیں۔ بلکہ شوہر کے لیے زینت کی نیت سے اسے مستحب بھی قرار دیا۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 22، ص 115، 116)
اسی طرح ایک دوسرے مقام پر عورتوں کے جائز زیورات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’یونہی چوڑیاں اگرچہ کانچ یا لاکھ وغیرہ کی ہوں‘‘ اور انہیں عورت کے جائز سنگار میں شمار فرمایا۔
(فتاویٰ رضویہ، جلد 1، ص 43)
لہٰذا یہ کہنا کہ آرٹیفیشل زیورات مطلقاً ناجائز ہیں درست نہیں؛ کیونکہ آرٹیفیشل کے عرفی دائرے میں آنے والی بعض چیزوں، مثلاً کانچ اور لاکھ کی چوڑیوں کا جواز صراحتاً موجود ہے۔ اب غیر سونے چاندی کی دھاتوں کا حکم اصل گفتگو یہاں سے شروع ہوتی ہے۔ اگر کوئی زیور لوہے، تانبے، پیتل، سیسے یا اس قسم کی دوسری دھات سے بنا ہوا ہو تو محض یہ کہ وہ آج کل آرٹیفیشل جیولری کے نام سے فروخت ہوتا ہے، اس سے اس کا شرعی حکم تبدیل نہیں ہوجاتا۔
فقہائے کرام نے صراحت فرمائی: والتختم بالحدید والصفر والنحاس والرصاص مکروہ للرجال والنساء، یعنی لوہے، پیتل، تانبے اور سیسے کی انگوٹھی مردوں اور عورتوں کے لیے مکروہ ہے۔ (رد المحتار، ج 9، ص 518)
فتاویٰ فیض الرسول میں بھی اسی مضمون کو نقل کرتے ہوئے لوہا، پیتل، تانبا اور سیسہ وغیرہ کی انگوٹھی کے متعلق ممانعت بیان کی گئی ہے۔ لہٰذا غیر سونے چاندی کی ہر دھات کو صرف ’’آرٹیفیشل‘‘ کہہ کر جائز قرار دینا فقہی تحقیق نہیں۔ کیا صرف سونا اور چاندی ہی زیور ہوسکتے ہیں؟ یہاں ایک بات کی وضاحت بھی ضروری ہے۔
ہم یہ نہیں کہتے کہ: ’’جو چیز سونے یا چاندی کی نہیں وہ زیور ہی نہیں۔‘‘ بلکہ کانچ کی چوڑی بھی زیور ہے، لاکھ کی چوڑی بھی زیور ہے، پلاسٹک اور دوسری اشیاء سے بنی زینتی چیزیں بھی عرفاً زیور ہوسکتی ہیں۔
بحث صرف یہ ہے کہ: زیور ہونا ایک الگ بات ہے اور اس کا شرعاً جائز ہونا الگ بات۔ یہی فرق اس پوری بحث کی بنیاد ہے۔ سونے یا چاندی کا پانی اور مکمل خول اب ایک نہایت اہم صورت باقی رہتی ہے، جسے نظر انداز کرنا درست نہیں۔
اگر لوہے یا کسی دوسری دھات کے اوپر سونے یا چاندی کا ایسا خول چڑھا دیا جائے کہ اندر کی اصل دھات بالکل نظر نہ آئے تو فقہی کتب میں اس صورت کی گنجائش بیان ہوئی ہے۔
فتاویٰ تاتارخانیہ میں ہے: لا بأس بأن يتخذ خاتم حديد قد لوى عليه أو ألبس بفضة حتى لا يرى، یعنی لوہے کی انگوٹھی پر چاندی اس طرح چڑھائی جائے کہ لوہا دکھائی نہ دے تو اس میں حرج نہیں۔
اسی طرح بہارِ شریعت میں بھی اس کی نظیر موجود ہے کہ زیور کے اندر تانبے یا لوہے کی سلاخ ہو اور اوپر سے سونے کا پتر اس طرح چڑھا دیا جائے کہ اندر کی دھات ظاہر نہ ہو تو پہننے کی ممانعت نہیں۔ (بہارِ شریعت، حصہ 16، ص 430، 431)
یہاں ایک اہم فرق سمجھنا چاہیے: محض سونے یا چاندی کا ہلکا پانی چڑھ جانا اور ایسا مکمل خول چڑھ جانا کہ اصل دھات نظر ہی نہ آئے، دونوں صورتوں کو بلا تفصیل ایک حکم دینا درست نہیں۔ لہٰذا کسی زیور کے بارے میں حکم لگانے سے پہلے اس کی حقیقی کیفیت معلوم کرنا ضروری ہے۔
مرد اور عورت کے حکم میں فرق اس مقام پر یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ زیورات کے باب میں مرد اور عورت کا حکم ہر جگہ یکساں نہیں۔ عورت کے لیے سونے اور چاندی کے زیورات جائز ہیں، جبکہ مرد کے لیے سونے کا زیور جائز نہیں۔ اسی طرح بعض دوسری دھاتوں کے زیورات کے متعلق فقہی احکام اپنی تفصیل رکھتے ہیں۔ اس لیے کسی ایک عبارت کو لے کر مرد و عورت دونوں کے تمام زیورات پر ایک ہی حکم لگا دینا درست طریقۂ استدلال نہیں۔
تو کیا عمومِ بلویٰ سے حکم بدل جائے گا؟ یہی وہ مقام ہے جہاں گزشتہ قسطوں کی بحث دوبارہ ہمارے سامنے آتی ہے۔ اگر اصل فقہی حکم کسی مخصوص دھات کے زیور کے بارے میں ممانعت بیان کرتا ہے، تو محض یہ کہنا کہ: ’’آج کل خواتین میں یہ بہت عام ہے‘‘ اس سے شرعی حکم خود بخود تبدیل نہیں ہوجاتا۔ بلکہ پہلے یہ دیکھا جائے گا کہ کیا واقعی وہ عمومِ بلویٰ کی شرعی شرائط پوری کرتا ہے؟
کیا عوام و خواص دونوں اس میں مبتلا ہیں؟ کیا اس سے بچنا حقیقتاً دشوار ہے؟ کیا ترک کرنے سے معتد بہ حرج پیدا ہوتا ہے? اور کیا فقہی اصولوں کے مطابق اس خاص صورت میں تخفیف کی گنجائش موجود ہے؟ یہ تمام سوالات ابھی باقی ہیں۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں صرف عرفِ عام اور کثرتِ استعمال کو دلیل بنا دینا کافی نہیں۔
حاصل قسط چہارم اب تک کی گفتگو سے چند باتیں واضح ہوگئیں: اولاً: آرٹیفیشل جیولری ایک عرفی اصطلاح ہے، شرعی اصطلاح نہیں۔ ثانیاً: آرٹیفیشل زیورات کی تمام اقسام کا حکم ایک نہیں۔ ثالثاً: کانچ اور لاکھ کی چوڑیاں عورتوں کے لیے جائز ہونے کی صریح فقہی نظیر موجود ہے۔ رابعاً: لوہا، تانبا، پیتل، سیسہ وغیرہ کی دھاتوں کے زیورات کے بارے میں فقہی کتب میں اصل ممانعت موجود ہے۔ خامساً: اگر کسی ممنوع دھات پر سونے یا چاندی کا ایسا خول چڑھا دیا جائے کہ اصل دھات دکھائی نہ دے تو اس کی الگ فقہی صورت ہے اور اس میں جواز کی تصریح موجود ہے۔ سادساً: محض ’’آرٹیفیشل‘‘ نام یا کثرتِ استعمال سے کسی دھاتی زیور کا شرعی حکم تبدیل نہیں ہوجاتا۔
اب اگلا سوال یہی ہے کہ: اگر کسی ممنوع دھات کے زیورات کا استعمال زمانے میں عام ہوجائے، تو کیا عمومِ بلویٰ کی بنیاد پر اس کے اصل حکم میں تخفیف ہوسکتی ہے؟ اور اس سلسلے میں سامنے والے حضرات نے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے اسپرٹ، حقہ اور بے قلعی برتنوں کے مسائل سے جو استدلال کیا ہے، کیا وہ موجودہ مسئلہ پر اسی طرح منطبق ہوتا ہے یا نہیں؟ ان شاء اللہ قسط پنجم میں انہی دلائل کا اصولی جائزہ لیا جائے گا۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
رشحات قلم : سرفراز احمد قادری امجدی
6 ربیع النور 1448ھ 20 اگست 2026ء
بانی و صدر محبوب الاولیاء فاؤنڈیشن لہوریا شریف ضلع سیتامڑھی بہار خطیب و امام، سنی حنفی بریلوی جامع مسجد پرسواڑا، ضلع بالاگھاٹ، ایم پی
