صبر اور حکمت کا ایمان افروز واقعہ




صبر اور حکمت کا ایمان افروز واقعہ

حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ باہر سفر میں تھے کہ آپ کی غیر حاضری میں آپ کے لڑکے کا انتقال ہو گیا۔ ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب گھر واپس آئے تو پوچھا کہ لڑکا کیسا ہے؟ آپ کی بیوی اُمِ سلیم نے جواب دیا: "آرام میں ہے"۔ یہ کہہ کر ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آگے کھانا رکھا۔ جب کھانا کھانے سے فارغ ہوئے تو اُمِ سلیم بولی کہ:

"ایک مسئلہ تو بتائیے، میرے پاس اگر کسی نے کوئی امانت رکھی ہو اور کچھ دنوں کے بعد وہ شخص اپنی امانت واپس طلب کرے تو کیا مجھے واپس دے دینا چاہیے یا نہیں؟"

حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمانے لگے: "یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے، فوراً واپس دے دینا چاہیے۔" ام سلیم نے کہا: "اور واپس دے کر اس کا کوئی رنج و غم تو نہیں کرنا چاہیے؟"

ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: "بالکل نہیں!" وہ بولی: "تو پھر سنئے! ہمارا لڑکا جو خدا وندِ کریم نے ہمیں امانت دی تھی وہ واپس لے لی ہے اور اس کا انتقال ہو گیا ہے۔ اب صبر کیجئے۔"

ابو طلحہ نے یہ سن کر صبر کیا اور رات گزاری۔ اس کے بعد صبح حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حضور سے سارا ماجرا عرض کیا۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: "خدا تعالیٰ آج رات تمہارے لیے برکت کرے۔" چنانچہ (اس کے بعد) ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اللہ تعالیٰ نے ایک لڑکا عطا فرمایا۔ جب پیدا ہوا تو ابو طلحہ اسے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگاہ میں لائے۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس کی پیشانی پر ہاتھ پھیرا اور اس کا نام 'عبداللہ' رکھا۔ عبداللہ جب تک زندہ رہا، حضور کے ہاتھ مبارک پھیرنے کی برکت سے ان کی پیشانی سے بہت نورانی اور روشن نظر آتی تھی۔

سبق: صحابہ کرام علیہم الرضوان مرد اور عورتیں سبھی اللہ کی رضا پر راضی تھے اور ان کے منہ سے کبھی کوئی خلافِ شرع آواز نہ نکلتی تھی۔ اور یہ بھی معلوم ہوا کہ صحابہ کرام مصیبت کے وقت اپنا دکھ درد بیان کرنے کے لیے حضور کی بارگاہ میں حاضر ہوتے تھے۔ اور حضور کی دعاؤں سے مستفید ہوتے تھے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ حضور نہ صرف یہ کہ خود وِردِ پاک بلکہ وِرد عطا فرمانے والے بھی ہیں۔
جو بھی آتا ہے لئے جاتا ہے توڑا نور کا
نور کی سرکار ہے کیا اس میں توڑا نور کا

(حوالہ: مکاشفۃ القلوب، جلد اول، صفحہ نمبر 246/246)

एक टिप्पणी भेजें

और नया पुराने