حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا کی حیاتِ مبارکہ اور توکل کا معجزہ
حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا کی حیاتِ مبارکہ صبر، تسلیم و رضا، توکل اور قربانی کا وہ عالمگیر شاہکار ہے جس نے تاریخِ انسانیت پر کبھی نہ مٹنے والے نقوش ثبت کیے ہیں۔ ان کی زندگی کا سب سے رقت انگیز اور دل کو چھو لینے والا واقعہ مکہ مکرمہ کی بے آب و گیاہ وادی میں ان کے قیام، معصوم شیرخوار اسماعیل علیہ السلام کی پیاس اور ان کی والدہ کی بے مثال جدوجہد پر مشتمل ہے۔ یہ صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ ایمان و محبت کی وہ داستان ہے جسے اللہ پاک نے قیامت تک کے لیے اسلامی شعائر اور عبادات کا حصہ بنا دیا۔
1. بے آب و گیاہ وادی میں تسلیم و رضا کا امتحان
یہ اس وقت کا ذکر ہے جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ پاک کی طرف سے حکم ملا کہ وہ اپنی زوجہ محترمہ حضرت ہاجرہ اور اپنے شیرخوار فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام کو کنعان (فلسطین) کے سرسبز و شاداب علاقے سے نکال کر ایک ایسی جگہ چھوڑ آئیں جہاں دور دور تک نہ پانی کا کوئی قطرہ تھا، نہ سایہ اور نہ ہی انسان کا کوئی وجود۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی زوجہ اور معصوم بچے کو لے کر سفر پر روانہ ہوئے۔ لمبا سفر طے کرنے کے بعد وہ حجاز کے صحرا میں اس جگہ پہنچے جہاں آج کا مکہ مکرمہ آباد ہے اور بیت اللہ کی بنیادیں دفن تھیں۔ اس وقت وہ جگہ بالکل ویران، تپتی ہوئی اور زندگی کی تمام علامتوں سے محروم تھی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے وہاں ایک کھجوروں سے بھرا تھلا اور پانی کا ایک مشکیزہ رکھا اور بغیر کچھ کہے واپس مڑنے لگے۔
حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا نے جب اپنے شوہر نامدار کو یوں خاموشی سے جاتے دیکھا تو حیران ہو کر پیچھے لپکیں۔ انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے پوچھا"اے ابراہیم! آپ ہمیں اس ایسی وادی میں چھوڑ کر کہاں جا رہے ہیں جہاں نہ کوئی مونس و غمخوار ہے اور نہ ہی زندگی کا کوئی سامان؟"
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کوئی جواب نہ دیا اور خاموشی سے آگے بڑھتے رہے۔ حضرت ہاجرہ نے بار بار یہی سوال دہرایا، مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام نبوت کے مقام اور صبر کے امتحان کی وجہ سے پیچھے نہ مڑے۔ تب حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا کا ایمانی شعور بیدار ہوا اور انہوں نے حکمتِ الٰہی کو سمجھ لیا۔ انہوں نے پوچھا: "کیا اللہ پاک نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟"
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پلٹ کر فرمایا: "ہاں!" اس ایک لفظ نے حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا کے دل کی تمام گھبراہٹ کو لمحوں میں سکون میں بدل دیا۔ انہوں نے انتہائی مطمئن، پورعزم اور ایمانی جذبے سے معطر لہجے میں فرمایا:
"اگر یہ میرے رب کا حکم ہے، تو پھر وہ ہمیں ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔"
یہ جملہ صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں تھا، بلکہ اللہ پاک پر توکل کی وہ بلندی تھی جس پر پہنچ کر انسان دنیاوی اسباب و وسائل کا محتاج نہیں رہتا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام ایک پہاڑی کی اوٹ میں پہنچے جہاں سے وہ اپنے اہل و عیال کو دیکھ نہ سکتے تھے، تو انہوں نے ہاتھ اٹھا کر اللہ پاک کے حضور یہ تاریخی دعا فرمائی:
(اے ہمارے رب! میں نے اپنی اولاد کو تیرے محترم گھر کے پاس ایک بے آب و گیاہ وادی میں بسایا ہے...)
2. تپتا ہوا صحرا اور شیرخوار بچے کی پیاس
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے جانے کے بعد، حضرت ہاجرہ اور معصوم اسماعیل علیہ السلام اس خوفناک تنہائی اور تپتے ہوئے صحرا میں اکیلے رہ گئے۔ کچھ دن تو مشکیزے کے پانی اور کھجوروں پر گزر گئے، لیکن آخرکار پانی کا آخری قطرہ بھی ختم ہو گیا۔
سورج کی تپش اپنے عروج پر تھی، ریت کے ذرے آفتاب کی کرتوں سے دہک رہے تھے اور ہوا میں آگ کے شعلے محسوس ہو رہے تھے۔ دودھ پیتا بچہ پیاس کی شدت سے بلبلانے لگا۔ جب ماں کا دودھ بھی خشک ہو گیا، تو حضرت اسماعیل علیہ السلام پیاس کی شدت سے تڑپنے لگے اور زمین پر اپنے معصوم پاؤں رگڑنے لگے۔
ایک ماں کے لیے اس سے بڑا امتحان کیا ہو سکتا ہے کہ اس کی نظروں کے سامنے اس کا جگر گوشہ پیاس سے تڑپ رہا ہو اور ارد گرد دور دور تک پانی کا نام و نشان نہ ہو؟ حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا کے لیے اپنے معصوم بچے کو اس حالت میں دیکھنا ناقابلِ برداشت ہو گیا۔ وہ بچے کی تڑپ نہ دیکھ سکیں اور پانی کی تلاش میں نکل پڑیں۔
## 3. صفا اور مروہ کے درمیان محبت کا اضطراب
حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا نے اپنے پاس موجود سب سے قریبی پہاڑی "صفا" کا رخ کیا۔ وہ تیزی سے صفا پر چڑھیں اور چاروں طرف نظریں دوڑائیں کہ شاید کہیں کوئی قافلہ، کوئی انسان یا پانی کا کوئی چشمہ نظر آ جائے، لیکن ہر طرف سنسان صحرا اور تپتی ہوئی ریت کے علاوہ کچھ نہ تھا۔
وہ صفا سے اتریں اور دوسری پہاڑی "مروہ" کی طرف دوڑیں۔ وادی کے درمیانی حصے میں، جہاں سے معصوم اسماعیل نظروں سے اوجھل ہو جاتے تھے، حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا اپنے چادر کا دامن سنبھالے ایک بے قرار ماں کی طرح دوڑنے لگتیں تاکہ جلدی سے وادی پار کر کے بچے کو دیکھ سکیں۔
وہ مروہ پر پہنچیں، اوپر چڑھیں، اور پھر چاروں طرف دیکھا، مگر وہاں بھی سوائے مایوسی اور سناٹے کے کچھ نہ ملا۔
ایک ماں کی ممتا کا جذبہ اور توکل کا امتحان جاری تھا۔ وہ صفا سے مروہ اور مروہ سے صفا کی طرف دوڑتی رہیں۔
پہلا چکر...
دوسرا چکر..
تیسرا چکر...
چوتھا، پانچواں، چھٹا اور ساتواں چکر!
ہر چکر میں ان کے قدموں کی رفتار میں کمی کے بجائے ممتا کی تڑپ اور اللہ پاک کی ذات پر امید بڑھتی جا رہی تھی۔ ان کے اس اضطراب، بے قراری اور محبت سے بھرپور سعی کو عرشِ الٰہی پر اس قدر پسند کیا گیا کہ اللہ پاک نے قیامت تک کے لیے ہر حاجی اور عمرہ کرنے والے کے لیے ان دو پہاڑیوں کے درمیان دوڑنے (سعی کرنے) کو واجب قرار دے دیا۔
درسِ حیات: حضرت ہاجرہ کی یہ سعی ہمیں سکھاتی ہے کہ دعا اور توکل کے ساتھ ساتھ اسباب کی تلاش اور جدوجہد انسان کا فرض ہے۔ باقی کامیابی دینا اللہ پاک کا کام ہے۔
4. زمزم کا معجزہ اور رحمتِ الٰہی کا نزول
جب حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا نے مروہ پر ساتواں چکر پورا کیا، تو وہ مکمل طور پر تھک چکی تھیں، لیکن ان کا ایمان اور اللہ پاک پر توکل اب بھی پہاڑ کی طرح قائم تھا۔ اسی اثنا میں انہیں ایک غیبی آواز سنائی دی۔
انہوں نے خود سے کہا: "خاموش ہو جاؤ!" اور پھر غور سے سنا۔ آواز دوبارہ آئی۔ حضرت ہاجرہ نے فرمایا:
"اے آواز دینے والے! اگر تو ہماری مدد کر سکتا ہے تو آگے آ!"
اسی لمحے انہوں نے دیکھا کہ معصوم اسماعیل علیہ السلام کے پاس، جہاں وہ پیاس سے پاؤں رگڑ رہے تھے، اللہ پاک کے حکم سے ایک فرشتہ (حضرت جبرائیل علیہ السلام) نمودار ہوا۔ فرشتہ نے اپنی ایڑی یا پر زمین پر مارا، اور تپتی ہوئی بنجر ریت سے اچانک شفاف اور ٹھنڈے پانی کا ایک چشمہ پھوٹ پڑا!
پانی اتنی تیزی سے ابلنے لگا کہ حضرت ہاجرہ کو خدشہ ہوا کہ کہیں یہ سارا پانی صحرا میں بہہ کر ضائع نہ ہو جائے۔ وہ جلدی سے دوڑ کر آئیں اور پانی کے گرد مٹی کی رکاوٹ بناتے ہوئے فرمانے لگیں:
"زم زم! زم زم!"(یعنی: رک جا، ٹھہر جا!)
انہوں نے خود بھی سیر ہو کر پانی پیا، اپنے مشکیزے کو بھرا، اور اپنے معصوم بچے کو دودھ پلایا۔ نبی کریم ﷺ نے بعد میں ارشاد فرمایا:
"اللہ پاک امِ اسماعیل (حضرت ہاجرہ) پر رحم فرمائے! اگر وہ زمزم کو یوں ہی چھوڑ دیتیں اور پانی کے گرد مٹی نہ بناتے، تو زمزم ایک بہتا ہوا چشمہ بن جاتا جو پوری زمین کو سیراب کر دیتا۔"
جس جگہ چند لمحے پہلے موت کی خاموشی اور پیاس کی ہلاکت خیز تپش تھی، وہاں اب ابدی زندگی اور شادابی کا سرچشمہ بہہ رہا تھا۔
5. وادیِ مکہ کی آبادی اور تاریخی حقیقت
پانی کے اس معجزاتی چشمے نے نہ صرف حضرت ہاجرہ اور ان کے بچے کی جان بچائی، بلکہ اس ویران وادی میں زندگی کے ایک نئے باب کا آغاز کر دیا۔
کچھ عرصے بعد، یمن کی طرف سے آنے والا عرب کا ایک قبیلہ "بنو جرہم" اس وادی کے قریب سے گزرا۔ انہوں نے دیکھا کہ اس خشک صحرا کے اوپر پرندے منڈلا رہے ہیں۔ پرندوں کا اس طرح چکر لگانا اس بات کی علامت تھا کہ نیچے پانی موجود ہے۔
بنو جرہم کے چند افراد نے جا کر دیکھا تو وہاں ایک معزز خاتون اور ایک شیرخوار بچہ پانی کے چشمے کے پاس بیٹھے تھے۔ انہوں نے حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا سے انتہائی ادب کے ساتھ اجازت مانگی:
"کیا آپ ہمیں اس وادی میں قیام کرنے اور اس پانی کو استعمال کرنے کی اجازت دیتی ہیں؟"
حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا نے اپنی دانشمندی اور تدبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرمایا:
"ہاں! تم یہاں قیام کر سکتے ہو، لیکن اس پانی پر تمہارا مالکانہ حق نہیں ہوگا، یہ پانی ہمارا ہی رہے گا۔"
قبیلے نے یہ شرط خوشی خوشی قبول کر لی اور وہاں خیمے لگا لیے۔ یوں ایک تنہا اور ویران صحرا، حضرت ہاجرہ کے توکل اور قربانی کی برکت سے، انسانوں کی بستی میں تبدیل ہو گیا۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اسی قبیلے (بنو جرہم) میں پرورش پائی، ان سے عربی زبان سیکھی، اور انہی میں ان کی شادی ہوئی۔
بعد میں حضرت ابراہیم علیہ السلام واپس تشریف لائے اور باپ بیٹے نے مل کر اسی جگہ پر بیت اللہ (خانہ کعبہ) کی تعمیرِ نو کی، جو آج پوری دنیا کے مسلمانوں کا قبلہ اور مرکز ہے۔
6. اس واقعہ کے جاویداں اسباق
حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا کی اس ایمان افروز داستان میں ہر دور کے انسان کے لیے ہدایت و تربیت کا عظیم سامان موجود ہے:
۱. توکل اور ایمانِ کامل
حضرت ہاجرہ نے اس وقت بھی اللہ پاک پر کامل بھروسہ رکھا جب بظاہر بچنے کی کوئی امید نہ تھی۔ جب انسان اللہ پاک کے لیے دنیاوی سہارے چھوڑتا ہے، تو اللہ پاک غیب سے ایسے راستے نکالتا ہے جن کا انسان تصور بھی نہیں کر سکتا۔
۲. صابر و شاکر خاتون کا مقام
ایک لونڈی کے روپ میں آنے والی عظیم خاتون نے اپنے صبر اور ایمان کی بدولت وہ مقام حاصل کیا کہ انبیاء علیہم السلام اور تمام عالم کے مومنین ان کی سنت پر عمل کرنے کے پابند کر دیے گئے۔
۳. کوشش اور دعا کا امتزاج
حضرت ہاجرہ نے صرف دعا پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ اپنے معصوم بچے کے لیے آخری حد تک دوڑ دھوپ کی۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ توکل کا مطلب ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنا نہیں، بلکہ تمام اسباب اختیار کر کے نتیجہ اللہ پاک کے سپرد کرنا ہے۔
اختتامیہ
آج جب لاکھوں مسلمان حج اور عمرے کے دوران خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہیں اور صفا و مروہ کے درمیان دوڑتے ہیں، تو وہ دراصل ایک عظیم ماں، ایک وفادار سیرت خاتون حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا کی یاد کو تازہ کرتے ہیں۔
آبِ زمزم کا ہر قطرہ جو آج بھی کروڑوں انسانوں کی پیاس بجھا رہا ہے، حضرت ہاجرہ کے انہی آنسوؤں، ان کے قدموں کی دوڑ اور ان کے لازوال توکل کا جاویداں معجزہ ہے۔ یہ واقعہ ہمیں سبق دیتا ہے کہ حالات چاہے کتنے ہی دشوار کیوں نہ ہوں، اگر **اللہ پاک** پر سچا ایمان ہو، تو صحرا بھی گلستان بن جاتے ہیں اور سوکھی زمین سے بھی آبِ حیات کے چشمے پھوٹ پڑتے ہیں۔
