حضرت بشر حافی رحمۃ اللہ علیہ کی توبہ کا ایمان افروز واقعہ

حضرت بشر حافی رحمۃ اللہ علیہ کی توبہ کا ایمان افروز واقعہ | ایک مقدس نام کی عظمت

​انسان کی زندگی میں توبہ کا لمحہ کب اور کیسے آ جائے، یہ صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی حکمت اور رحمت پر منحصر ہے۔ بعض اوقات انسان کا کوئی چھوٹا سا نیک عمل بارگاہِ الٰہی میں اس قدر مقبول ہو جاتا ہے کہ وہ اس کی قسمت کا دھارا بدل کر رکھ دیتا ہے۔ ایسا ہی ایک دلنشین واقعہ تاریخِ اسلام کے عظیم ولی حضرت بشر حافی رحمۃ اللہ علیہ کی توبہ کا ہے۔

​1. ابتدائی زندگی اور غفلت کا دور

​حضرت بشر بن حارث رحمۃ اللہ علیہ (جنہیں دنیا "بشر حافی" کے نام سے جانتی ہے)، اپنی زندگی کے ابتدائی دور میں دین اور معرفتِ الٰہی سے دور تھے۔ آپ اپنی جوانی کے ایام میں عیش و عشرت اور غفلت کی زندگی گزار رہے تھے۔ آپ کا زیادہ تر وقت دوستوں کی محفلوں اور دنیاوی رنگ رلیوں میں گزرتا تھا۔

​2. ادبِ اسمِ الٰہی اور دل کا انقلاب

​ایک دن حضرت بشر حافی رحمۃ اللہ علیہ نشے کی حالت میں راستے سے گزر رہے تھے۔ چلتے چلتے ان کی نظر زمین پر پڑے ہوئے ایک کاغذ کے ٹکڑے پر پڑی۔ انہوں نے غور سے دیکھا تو اس پر نہایت پاکیزہ جملہ "بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ" یعنی اللہ تعالیٰ کا مقدس نام لکھا ہوا تھا اور لوگ بے دھیانی میں اس کے پاس سے گزر رہے تھے۔

​اگرچہ بشر اس وقت نشے کی حالت میں تھے، لیکن ان کے دل میں ایمان کی ایک رمق اور اللہ کے نام کی عظمت باقی تھی۔ آپ فوراً نیچے جھکے اور:

  • ​اس کاغذ کے ٹکڑے کو انتہائی احترام کے ساتھ زمین سے اٹھایا۔
  • ​اس پر لگی مٹی کو اپنے کپڑوں سے صاف کیا اور چوما۔
  • ​اپنے پاس موجود چند درہم لے کر عطر فروش کے پاس گئے۔
  • ​ان پیسوں سے عمدہ خوشبو خریدی اور اس مبارک کاغذ پر لگائی۔
  • ​پھر اس پاک نام کو ایک بلند، صاف اور محفوظ جگہ پر عزت کے ساتھ رکھ دیا۔
  • غیبی پیغام: "تو نے ہمارے نام کو معطر کیا اور اونچی جگہ پر رکھا، ہم تیرے نام کو دنیا و آخرت میں معطر کریں گے!"


    ​3. غیب سے بشارت اور سچی توبہ

    ​اسی رات اس دور کے ایک بڑے ولی اور بزرگ کو خواب میں اللہ رب العزت کی طرف سے ارشاد ہوا:

    "بشر کے پاس جاؤ اور اس سے کہو: تو نے ہمارے نام کی تعظیم کی اور اسے معطر کیا، اس کی برکت سے ہم بھی تیرے نام کو دنیا و آخرت میں معطر کریں گے اور تجھے اپنے مقرب بندوں میں شامل کر لیں گے۔"


    ​جب وہ بزرگ بشر کے گھر پہنچے اور انہیں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا یہ پیغام سنایا، تو حضرت بشر حافی کے دل کی دنیا بدل گئی۔ ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سمندر جاری ہو گیا۔ انہوں نے اسی وقت صدقِ دل سے بارگاہِ الٰہی میں توبہ کی اور آئندہ کے لیے تمام گناہوں کو ہمیشہ کے لیے خیرباد کہہ دیا۔

    ​4. آپ کو "حافی" (ننگے پاؤں والا) کیوں کہا جاتا ہے؟

    ​جس وقت حضرت بشر حافی رحمۃ اللہ علیہ کو اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور رحمت کا پیغام ملا، اس وقت ان کے پاؤں میں جوتے نہیں تھے۔ توبہ کے بعد انہوں نے دل میں یہ عزم کر لیا کہ:

    "جس حالت میں میرے رب نے مجھے معاف فرمایا اور عزت بخشی، اب میں ساری زندگی اپنے پاؤں میں جوتے نہیں پہنوں گا!"


    ​اس کے بعد آپ تمام عمر ننگے پاؤں ہی رہے۔ عربی زبان میں "حافی" کے معنی ننگے پاؤں رہنے والے کے ہیں، اسی لیے آپ تاریخ میں حضرت بشر حافی کے نام سے مشہور ہوئے۔

एक टिप्पणी भेजें

और नया पुराने