حضرت مالک بن دینار رحمۃ اللہ علیہ کی توبہ کا ایمان افروز واقعہ | ایک معصوم بچی کا پیار اور دل کا انقلاب
انسان کی زندگی میں توبہ کا لمحہ کب اور کیسے آ جائے، یہ صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی حکمت اور رحمت پر منحصر ہے۔ بعض اوقات انسان گناہوں کی دلدل میں شدید گھرا ہوتا ہے، لیکن رب کریم کی رحمت کا ایک اشارہ اس کی قسمت کا دھارا بدل کر رکھ دیتا ہے۔ ایسا ہی ایک سبق آموز، معطر اور دلنشین واقعہ تاریخِ اسلام کے عظیم ولی حضرت مالک بن دینار رحمۃ اللہ علیہ کی توبہ کا ہے۔
۱. ابتدائی زندگی اور غفلت کا دور
حضرت مالک بن دینار رحمۃ اللہ علیہ اپنی زندگی کے ابتدائی دور میں شدید غفلت، دنیاوی مستیوں اور گناہوں میں مبتلا تھے۔ آپ خود بیان فرماتے ہیں کہ میں غفلت کے اندھیروں میں غرق تھا، میرا زیادہ تر وقت دنیاوی رنگ رلیوں میں گزرتا تھا اور میں دین سے بے خبر زندگی بسر کر رہا تھا۔
۲. ننھی بیٹی کی آمد اور اس کی ناگہانی جدائی
اسی دوران اللہ رب العزت نے آپ کے گھر ایک ننھی پری عطا فرمائی، جس کا نام "فاطمہ" رکھا گیا۔ حضرت مالک بن دینار کو اپنی اس معصوم بیٹی سے بے پناہ اور جنونی حد تک محبت تھی۔
- گناہوں سے جھجھک: جب بچی کچھ بڑی ہوئی اور چلنے پھرنے لگی، تو اس کا معصوم وجود والد کے لیے گناہوں کے سامنے ایک رکاوٹ بننے لگا۔
- حیا کا احساس: جب بھی حضرت مالک بن دینار شراب کا پیالہ سامنے رکھتے، وہ معصوم بچی آ کر اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے پیالہ ہٹا دیتی اور والد کو دیکھ کر مسکرا دیتی۔
- صدمہ اور غم: لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا؛ جب وہ بچی محض دو سال کی ہوئی تو وہ بیمار ہوئی اور دنیا سے رخصت ہو گئی۔ بیٹی کی اس ناگہانی جدائی کے صدمے نے آپ کو سنبھالنے کے بجائے اور زیادہ غفلت اور شراب نوشی میں دھکیل دیا۔
۳. شعبان کی پندرھویں رات کا ہولناک خواب
شعبان کی پندرھویں رات (شبِ برات) کو آپ نے شدید نشے کی حالت میں سوتے ہوئے ایک ایسا خوفناک خواب دیکھا جس نے ان کی روح کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا:
- قیامت کا خوفناک منظر: آپ نے دیکھا کہ قیامت قائم ہو چکی ہے، آسمان سیاہ ہو چکا ہے، سورج بے نور ہے اور تمام مخلوق سراسیمہ و پریشان بھاگ رہی ہے۔
- اژدہے کا تعاقب: اچانک آپ کے پیچھے ایک بہت بڑا، سیاہ اور ہولناک اژدہا (سانپ) منہ کھولے لپکا۔ آپ خوف کے مارے چیختے ہوئے بھاگے، لیکن وہ اژدہا ہر قدم پر آپ کے قریب ہوتا جا رہا تھا۔
- معصوم بیٹی کا سہارا: بھاگتے بھاگتے آپ ایک بلند جگہ پر پہنچے، جہاں آپ کی نظر اپنی وہی وفات پا جانے والی ننھی بیٹی پر پڑی۔ بیٹی نے اپنے والد کو مصیبت میں دیکھا تو فوراً اپنا معصوم ہاتھ آگے بڑھایا اور اس ہولناک سانپ کو پیچھے دھکیل دیا۔
پھر اس معصوم بچی نے اپنے والد کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر انتہائی درد بھرے انداز میں قرآنِ کریم کی یہ آیت تلاوت کی:
'أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَن تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ'
(سورۃ الحدید: 16)
ترجمہ: "کیا ایمان والوں کے لیے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کے ذکر کے لیے جھک جائیں؟"
۴. اژدہے کی حقیقت اور سچی توبہ
حضرت مالک بن دینار نے کانپتی ہوئی آواز میں بیٹی سے پوچھا: "ایری پیاری بیٹی! یہ خوفناک اژدہا کیا تھا جو مجھے نگلنے پر تلا ہوا تھا؟"
بیٹی نے جواب دیا:
"بابا جان! یہ اژدہا کوئی اور نہیں، بلکہ آپ کے اپنے برے اعمال کا مجسمہ تھا! آپ نے اپنے گناہوں سے اسے اتنا طاقتور اور دیوہیکل بنا دیا تھا کہ وہ آج آپ کو نگلنے آیا تھا۔"
یہ جملہ سنتے ہی حضرت مالک بن دینار کی آنکھ کھل گئی۔ جسم خوف، ندامت اور شرمندگی سے کانپ رہا تھا، اور آنکھوں سے آنسوؤں کا سمندر جاری تھا۔ آپ نے اسی وقت تڑپ کر بارگاہِ الٰہی میں فریاد کی:
"اے میرے رب! کیوں نہیں، وہ وقت ابھی آ گیا ہے! میں تیرے حضور سچی توبہ کرتا ہوں!"
آپ اٹھ کھڑے ہوئے، شراب کے مٹکے توڑ دیے، تمام برے کاموں سے ہمیشہ کے لیے کنارہ کشی اختیار کر لی اور اپنی باقی ماندہ زندگی کو اللہ کی عبادات اور زہد کے لیے وقف کر دیا۔
💡 حاصلِ کلام:
یہ واقعہ ہمیں سبق دیتا ہے کہ انسان چاہے گناہوں کے کتنے ہی اندھیروں میں کیوں نہ گھرا ہو، اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی رحمت کا ایک اشارہ اور دل کی ایک سچی ندامت اسے ولی کامل بنا سکتی ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ انسان اپنے رب کے بلاوے پر بغیر کسی تاخیر کے لبیک کہے۔