حضرت عمر فاروقؓ کے عدل و انصاف کی بے مثال تاریخ

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی ذاتِ گرامی تاریخِ انسانیت میں عدل و انصاف کی ایک ایسی روشن علامت ہے جس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ آپ کا نظامِ عدل محض مسلمانوں تک محدود نہیں تھا، بلکہ بلا تفریقِ مذہب، نسل، اور عہدہ، تمام انسانوں کے لیے یکساں تھا۔

​آپ کے عدل و انصاف کے چند نمایاں اور ایمان افروز پہلو درج ذیل ہیں:

​۱. قانون کی نظر میں سب برابر

​حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے نزدیک حاکم اور محکوم، امیر اور غریب، عربی اور عجمی سب قانون کے سامنے برابر تھے۔

  • جبلہ بن ایہم کا واقعہ: غسان کا نصرانی بادشاہ جبلہ بن ایہم اسلام لایا۔ طواف کے دوران ایک غریب بدو کا پاؤں اس کی چادر پر پڑ گیا۔ جبلہ نے غصے میں آکر اس بدو کو تھپڑ مار دیا۔ بدو نے حضرت عمر کے پاس شکایت کی۔ آپ نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے فیصلہ سنایا کہ یا تو جبلہ اس بدو سے معافی مانگے یا بدو بھی اسے بدلے میں تھپڑ مارے گا۔ جبلہ نے حیرت سے کہا: "میں بادشاہ ہوں اور وہ ایک عام انسان!" آپ نے فرمایا: "اسلام نے تم دونوں کو برابر کر دیا ہے۔"

​۲. مظلوم غیر مسلموں کا تحفظ

​آپ کے دور میں ذمیوں (غیر مسلم شہریوں) کے حقوق کی پاسداری کا خاص خیال رکھا جاتا تھا۔

  • مصری قبطی کا واقعہ: فاتحِ مصر حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے بیٹے نے ایک گھڑ دوڑ میں ہارنے پر ایک عام مصری قبطی (عیسائی) کو کوڑا مار دیا اور کہا: "میں شریف زادوں کا بیٹا ہوں!" وہ قبطی مدینہ آیا اور حضرت عمر سے شکایت کی۔ آپ نے عمرو بن العاص اور ان کے بیٹے کو بلا لیا۔ قبطی کو کوڑا تھما کر فرمایا کہ وہ والیِ مصر کے بیٹے کو مارے۔ اس کے بعد آپ نے وہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا جو آج بھی عدل کی تاریخ میں زریں حروف سے لکھا جاتا ہے:
  • "تم نے لوگوں کو کب سے غلام بنا لیا، جبکہ ان کی ماؤں نے انہیں آزاد پیدا کیا تھا؟"


    ​۳. خود احتسابی اور عمالِ حکومت پر کڑی نظر

    ​حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے والیوں اور گورنروں کے لیے سخت قواعد ضوابط مقرر کر رکھے تھے۔

    • ​تمام عمال کے اثاثوں کا تقرر کے وقت اور معزولی کے وقت حساب لیا جاتا تھا۔
    • ​حج کے موقع پر تمام گورنروں کو مدینہ بلایا جاتا اور عام لوگوں کو ان کے خلاف شکایت کرنے کی کھلی اجازت ہوتی تھی۔
    • ​جب آپ سے پوچھا گیا کہ اگر فرات کے کنارے کوئی کتا بھی بھوک سے مر جائے تو اس کا جواب دہ کون ہوگا؟ تو آپ نے فرمایا: "عمر! کیونکہ یہ اس کی حکومت کی ذمہ داری ہے۔"

    ​۴. بلا خوفِ لومۃ لائم فیصلے

    ​حضرت عمر نے عدل کے معاملے میں اپنے رشتہ داروں اور اپنے بیٹوں تک کے ساتھ کوئی رعایت نہیں کی۔ جب قانون کی خلاف ورزی کا معاملہ سامنے آیا تو آپ نے بغیر کسی پاسداری کے اسلامی حدود کا نفاذ کیا۔

    ​۵. عوام کی براہِ راست خبر گیری

    ​آپ راتوں کو مدینہ کی گلیوں میں گشت کرتے تھے تاکہ غریبوں اور محتاجوں کا حال معلوم کر سکیں۔ ایک رات ایک عورت کو دیکھا جو بچوں کو بہلانے کے لیے پانی میں پتھر ابال رہی تھی تاکہ بچے سمجھیں کہ کھانا پک رہا ہے اور سو جائیں۔ آپ فوراً بیت المال گئے، خود آٹے کی بوری اپنی پیٹھ پر اٹھائی اور جا کر اس خاندان کے لیے کھانے کا انتظام کیا۔

    ​حضرت عمر فاروق کا عدل محض ایک حکمران کا نظام نہیں تھا، بلکہ تقویٰ اور خوفِ خدا کا عملی مظاہرہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا عہدِ حکومت آج بھی دنیا بھر میں حقیقی جمہوری، فلاحی اور عادلانہ ریاست کے لیے ایک مشعلِ راہ سمجھا جاتا ہے۔



एक टिप्पणी भेजें

और नया पुराने