اللہ تعالیٰ کی نعمتیں اور شکر گزاری: ٹھنڈا پانی بھی ایک بڑی نعمت ہے

 اللہ تعالیٰ کی نعمتیں اور شکر گزاری: ٹھنڈا پانی بھی ایک بڑی نعمت ہے
انسان اس کائنات میں اللہ تعالیٰ کی بے شمار اور لاپیدا کنار نعمتوں کے سایہ تلے زندگی بسر کر رہا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "وَإِن تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا" (اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو گن نہیں سکو گے)۔ ہم عموماً بڑی بڑی نعمتوں، جیسے مال و دولت، عہدہ اور شہرت کو ہی نعمت سمجھتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ بظاہر معمولی نظر آنے والی چیزیں جو ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ ہیں، دراصل اللہ کی بہت بڑی اور عظیم نعمتیں ہیں۔ ٹھنڈا پانی اور بنیادی نعمتیں
پانی زندگی کی بقا کے لیے سب سے بنیادی ضرورت ہے۔ سخت گرمی، پیاس کی شدت اور تھکن کے عالم میں ایک گھونٹ ٹھنڈا پانی انسان کے وجود کو سیراب کر دیتا ہے۔ حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب قرآنی آیات نازل ہوئیں تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سوال کیا کہ ہمارے پاس کون سی بڑی نعمتیں ہیں؟ ہم تو اکثر جو کی روٹی بھی پیٹ بھر کر نہیں کھاتے، ہماری زندگی تو سادگی اور جدوجہد میں گزرتی ہے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی فرمائی گئی اور پوچھا گیا:  کیا تم جوتے نہیں پہنتے؟ کیا تم ٹھنڈا پانی نہیں پیتے 
یہ حدیث مبارکہ ہمیں یہ درسی پیغام دیتی ہے کہ جن چیزوں کو ہم اپنے لیے بالکل عام اور معمولی سمجھتے ہیں—جیسے ٹھنڈا پانی، پاؤں میں جوتا، اور تن کا کپڑا—وہ بھی رب ذوالجلال کی ایسی نعمتیں ہیں جن کا شکر ادا کرنا ہم پر فرض ہے۔
 روزِ قیامت نعمتوں کا حساب
قیامت کا دن ایسا دن ہو گا جہاں انسان سے اس کی ہر نعمت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: "ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ" (پھر اس دن تم سے نعمتوں کے بارے میں ضرور سوال کیا جائے گا) 
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن انسان سے جن نعمتوں کے بارے میں سب سے پہلے سوال ہوگا، ان میں سے ایک سوال یہ بھی ہوگا کہ کیا ہم نے تمہیں تندرستی نہیں دی تھی؟ اور کیا ہم نے تمہیں ٹھنڈا پانی نہیں پلایا تھا
ایک اور جگہ ذکر ملتا ہے کہ انسان سے جو کا دانا، کھجور، اور ٹھنڈے پانی جیسی نعمتوں کے استعمال اور ان کے بدلے میں شکر گزاری کے متعلق پوچھ گچھ ہوگی۔
 شکر گزاری کا مفہوم اور اس کی اہمیت
شکر گزاری کا مطلب صرف زبان سے "الحمد للہ" کہہ دینا نہیں ہے، بلکہ شکر کے تین بنیادی ارکان ہیں:
 1.قلبی اعتراف: دل سے اس بات کو ماننا  زبان سے اللہ کی حمد و ثنا بیان کرنا۔
 3.عملی شکر: اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو اس کی نافرمانی میں استعمال نہ کرنا، بلکہ اس کی اطاعت، بندوں کی خدمت اور رضائے الٰہی کے حصول میں خرچ کرنا۔
قرآن پاک میں اللہ کا وعدہ ہے: "لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ" (اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا)۔ شکر گزاری سے نعمتوں میں برکت اور اضافہ ہوتا ہے، جبکہ ناشکری اور اترانا نعمتوں کے زوال کا سبب بنتا ہے۔
 حاصلِ کلام
ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے گرد و پیش کا جائزہ لیں اور ان بے شمار نعمتوں کو پہچانیں جو بغیر کسی استحقاق کے ہمیں عطا کی گئی ہیں۔ پینے کا صاف اور ٹھنڈا پانی، پہننے کے لیے لباس، رہنے کے لیے چھت، اور جسمانی صحت ایسی نعمتیں ہیں جن کی قدر ان لوگوں سے پوچھیے جو ان سے محروم ہیں۔ ایک مومن کا شیوہ یہی ہونا چاہیے کہ وہ ہر حال میں اپنے رب کا شکر گزار رہے، نعمتوں کا صحیح اور جائز استعمال کرے، اور اس فکر میں رہے کہ بروزِ قیامت جب ان کا حساب لیا جائے تو وہ اپنے رب کے سامنے سرخرو ہو سکے۔


एक टिप्पणी भेजें

और नया पुराने