آرٹیفیشل جیولری اور عمومِ بلویٰ: ایک تحقیقی جائزہ (قسط دوم


آرٹیفیشل جیولری اور عمومِ بلویٰ: ایک تحقیقی جائزہ
 (قسط دوم)

 آرٹیفیشل جیولری کسے کہتے ہیں؟ اور کیا صرف عام ہونا عمومِ بلویٰ ہے؟

الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی سید المرسلین، وعلیٰ آلہ واصحابہ اجمعین، اما بعد!

گزشتہ قسط میں عمومِ بلویٰ کی حقیقت، اس کی شرائط اور حدود پر گفتگو کی گئی تھی۔ اس قسط میں سب سے پہلے یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ آرٹیفیشل جیولری سے مراد کیا ہے؟ کیونکہ عام لوگوں میں اس بارے میں بھی کافی ابہام پایا جاتا ہے۔

 آرٹیفیشل جیولری کہتے کسے ہیں؟
عام عرف میں Artificial Jewellery یا مصنوعی زیورات سے مراد ایسے زیورات ہیں جو خالص سونے یا چاندی کے بجائے دوسری دھاتوں سے تیار کیے جاتے ہیں۔ 

اس میں بالخصوص:لوہا، تانبا، پیتل، زنک اور دیگر غیر قیمتی دھاتوں سے بنے ہوئے کڑے، چوڑیاں، ہار، بالیاں، جھمکے، پازیب، انگوٹھیاں، چین اور دیگر زیورات شامل ہوتے ہیں۔ البتہ پلاسٹک، کانچ، کپڑے یا لکڑی سے بنی ہوئی اشیاء کو اسی حکم میں داخل کرنا درست نہیں، کیونکہ ان کا حکم الگ ہے اور فقہائے کرام نے ان میں سے بعض کے استعمال کی صراحتاً اجازت فرمائی ہے۔

 چنانچہ فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی رحمہ اللّٰہ علیہ  تحریر فرماتے ہیں : سونے چاندی کے علاوہ کانچ (یعنی شیشہ ) اور پلاسٹک کا زیور بھی عورتوں کو پہنا جائز ہے اور دوسری تمام دھاتوں کا زیور پہنا جائز نہیں۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رضی عند ربه القوی سے سوال کیا گیا کہ عورتوں کو کانچ کی چوڑیاں پہننا جائز ہے یا نہیں۔ اس کے جواب میں آپ تحریر فرماتے ہیں جائز ہیں: " لعدم المنع الشرعي " بلکہ عورت کیلئے سنگار کی نیت سے مستحب " و انما الاعمال بالنيات . " ( بخاری شریف جلد اول صفحہ ۲) بلکہ شوہر یا ماں باپ کا حکم ہو تو واجب۔ فحرمة العقوق و لوجوب طاعة الزوج فيما يرجع الى الزوجية . اهـ ( فتاوی رضویہ جلد نہم نصف اول صفحه ۲۳۵) اور دھاتوں کے متعلق تحریر فرماتے ہیں: " چاندی سونے کے سوالو ہے، پیتل ، تانبے رنگ کا زیور عورتوں کو بھی مباح نہیں اور تلیھا (فتاوی رضویہ جلد نہم نصف اول صفحہ ۱۴) اور تحریر فرماتے ہیں : ” تانبا ، پیتل کا نس لوہا تو عورتوں کو بھی پہننا منوع ہے اور اس سے نماز ان کی بھی مکروہ ہے ۔ اھ (فتاوی رضویہ جلد ۹ نصف آخر صفحہ ۲۷۹) 

اور خاتم محققین حضرت علامہ ابن عابدین شامی قدس سره السلامی تحریر فرماتے ہیں: التختم بالحديد و الصفر و النحاس والرصاص مكروه للرجال و النساء اه ." ( در مختار جلد پرچم صفحه ۲۵۳)

لہذا کانچ (یعنی شیشہ )اور پلاسٹک کی چوڑیاں پہنا اور پہن کر نماز پڑھنا صحیح و درست ہے۔اور سونے چاندی کے علاوہ دوسری تمام دھاتوں کی چوڑیاں پہنانا جائز اور پہن کر نماز پڑھنا مکروہ ہے (فتاویٰ فقیہ ملت، جلد 1، صفحہ 177)

لہٰذا موجودہ بحث میں اصل محلِ نزاع دوسری دھاتوں سے بنے ہوئے مصنوعی زیورات ہیں، نہ کہ ہر وہ چیز جسے بازار میں عرفاً "آرٹیفیشل" کہہ دیا جاتا ہے۔  سونے یا چاندی کی تہہ چڑھانے کی صورت  یہاں ایک اور اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔ اگر لوہے، پیتل، تانبے وغیرہ کے زیور پر سونے یا چاندی کی ایسی مکمل تہہ یا خول چڑھا دیا جائے کہ اصل دھات چھپ جائے، تو فقہی کتب میں اس کی الگ صورت بیان ہوئی ہے۔

 فتاویٰ تاتارخانیہ میں ہے: "لا بأس بأن يتخذ خاتم حديد قد لوى عليه أو ألبس بفضة حتى لا يرى." یعنی لوہے کی انگوٹھی پر اس طرح چاندی چڑھانے میں حرج نہیں کہ لوہا نظر نہ آئے۔ (فتاویٰ تاتارخانیہ، جلد 8، صفحہ 127)

لیکن محض سونے یا چاندی کا پانی، معمولی ملمع یا باریک قلعی چڑھا دینے سے اصل دھات کا حکم ختم نہیں ہوتا۔ تبیین الحقائق میں ہے: "أما التمويه الذي لا يخلص فلا بأس به بالإجماع، لأنه مستهلك فلا عبرة ببقائه لوناً."

 اور فتاویٰ رضویہ میں سونے کے پانی سے متعلق فرمایا گیا: "سونے یا چاندی کا پانی وجہ ممانعت نہیں، ہاں اگر وہ شیء فی نفسہٖ ممنوع ہو تو دوسری بات ہے، جیسے سونے کا ملمع کی ہوئی تانبے کی انگوٹھی۔"  (فتاویٰ رضویہ، جلد 9، صفحہ 134)

لہٰذا محض یہ کہنا کہ زیور پر سونے یا چاندی کی رنگت موجود ہے، کافی نہیں؛ بلکہ یہ دیکھا جائے گا کہ اس پر صرف پانی/ملمع ہے یا واقعی ایسی تہہ اور خول ہے جس سے اصل دھات چھپ گئی ہے۔

 آرٹیفیشل جیولری کے بارے میں شرعی کونسل آف انڈیا کا فیصلہ یہ بات بھی نہایت اہم ہے کہ ہندوستان ہی میں، مرکزِ عقیدت بریلی شریف میں شرعی کونسل آف انڈیا کے دسویں فقہی سیمینار میں آرٹیفیشل یعنی مصنوعی زیورات کے متعلق باقاعدہ شرعی فیصلہ پیش کیا جا چکا ہے۔ اس فیصلے میں سونے اور چاندی کے علاوہ دوسری دھاتوں کے زیورات، مثلاً لوہا، پیتل، تانبا وغیرہ کے استعمال کو ناجائز و مکروہ تحریمی قرار دیا گیا ہے۔ اسی فیصلے میں یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اگر ان زیورات پر سونے یا چاندی کا صرف پانی یا ملمع کیا گیا ہو تو محض اس سے اصل حکم تبدیل نہیں ہوگا۔ مزید یہ کہ ایسے زیورات کی خرید و فروخت، بنانا اور بنوانا بھی الگ فقہی احکام کے تحت بیان کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ شرعی کونسل آف انڈیا، بریلی شریف کے دسویں فقہی سیمینار، 2013ء میں پیش کیا گیا۔

یہ حوالہ اس بحث میں اس لیے اہم ہے کہ ہمارا موضوع محض کسی ایک ملک کا عرف نہیں، بلکہ ہندوستان کے اندر ہی بریلی شریف میں منعقد ہونے والے فقہی سیمینار میں اس مسئلہ پر پیش کیا گیا شرعی موقف بھی سامنے رکھنا ہے۔

 صرف عام ہونا عمومِ بلویٰ نہیں اب اصل مسئلہ کی طرف آئیے۔ آج بعض حضرات آرٹیفیشل جیولری کے جواز کے لیے یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ: "آج کل عورتوں میں آرٹیفیشل جیولری بہت عام ہے، لہٰذا اس میں عمومِ بلویٰ پایا جاتا ہے۔"

لیکن اصولی اعتبار سے یہ استدلال مکمل نہیں۔ کیونکہ کسی چیز کا عام ہوجانا اور عمومِ بلویٰ کا متحقق ہونا دو الگ چیزیں ہیں۔

 عمومِ بلویٰ کے لیے صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ: کتنی عورتیں اسے استعمال کرتی ہیں؟ بازار میں کتنی عام ہے؟ کتنی دکانوں پر ملتی ہے؟ کتنے عرصے سے رائج ہے؟ بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ:

کیا عوام و خواص دونوں اس میں اس طرح مبتلا ہیں کہ اس سے بچنا واقعی معتد بہ حرج و مشقت کا باعث ہو؟ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جسے اس پوری بحث میں نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ عوام و خواص دونوں کا ابتلاء فتاویٰ حافظ ملت میں عمومِ بلویٰ کے متعلق صراحت ہے:  "اس کے پیش نظر اس میں ابتلائے عوام تو ہے لیکن عمومِ بلویٰ یا ابتلائے عام نہیں۔ عمومِ بلویٰ وہاں صادق آتا ہے جہاں عوام و خواص دونوں مبتلا ہوں اور گناہ سے بچنا دشوار ہو، اسی کو ابتلائے عام بھی کہا جاتا ہے۔(فتاویٰ حافظ ملت، جلد 2، صفحہ 75)

اس عبارت سے معلوم ہوا کہ محض عوام میں کسی چیز کا عام ہونا کافی نہیں۔ بلکہ دیکھا جائے گا کہ: عوام بھی مبتلا ہوں، خواص بھی مبتلا ہوں، اور اس سے بچنا بھی حقیقی طور پر دشوار ہو۔ لہٰذا اگر کوئی چیز معاشرے میں بہت عام ہو، لیکن اس سے اجتناب کرنے میں کوئی قابلِ ذکر حرج نہ ہو، تو صرف اس کثرتِ استعمال کی بنیاد پر اسے عمومِ بلویٰ قرار دینا محلِ نظر ہوگا۔ عمومِ بلویٰ اور حرج کا باہمی تعلق عمومِ بلویٰ کے مفہوم میں ہی یہ بات بنیادی حیثیت رکھتی ہے کہ کسی ممنوع یا محلِ ابتلاء چیز سے بچنا مکلف کے لیے دشوار ہوجائے۔

لہٰذا یہ کہنا کافی نہیں کہ: "فلاں زیور ہر جگہ ملتا ہے اور بہت سی خواتین پہنتی ہیں۔" بلکہ یہ بھی ثابت کرنا ہوگا کہ: اگر خواتین اس زیور کو چھوڑ دیں تو ان پر ایسا معتد بہ حرج، مشقت یا غیر معمولی دشواری لازم آئے گی جسے شرعاً نظر انداز نہ کیا جاسکے۔

اگر محض زینت، فیشن، لباس کی مناسبت یا کم قیمت ہونے کی وجہ سے لوگ اسے استعمال کرتے ہوں، تو یہ سوال اپنی جگہ باقی رہے گا کہ اس سے بچنا شرعی اعتبار سے واقعی دشوار ہے یا صرف پسندیدہ اور رائج چیز چھوڑنا دشوار محسوس ہوتا ہے؟
یہ دونوں چیزیں ایک نہیں ہیں۔

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمہ اللہ کا اصول
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"ولسنا نعني بهذا أن عامة المسلمين إذا ابتلوا بحرام حل، بل الأمر أن عموم البلوى من موجبات التخفيف شرعاً..." ترجمہ: ہماری مراد یہ نہیں کہ اگر عام مسلمان کسی حرام کام میں مبتلا ہوجائیں تو وہ حلال ہوجائے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ عمومِ بلویٰ شرعاً تخفیف کا سبب ہے۔ پھر فرماتے ہیں: "فإذا وقع ذلك في مسألة مختلف فيها ترجح جانب اليسر صوناً للمسلمين عن العسر." ترجمہ: جب کسی مختلف فیہ مسئلہ میں عمومِ بلویٰ پیدا ہوجائے تو مسلمانوں کو مشقت سے بچانے کے لیے آسانی والے قول کو ترجیح دی جاسکتی ہے۔

 اور مزید فرماتے ہیں: "ولا يخفى على خادم الفقه أن هذا كما هو جار في باب الطهارة والنجاسة كذلك في باب الإباحة والحرمة." ترجمہ: فقہ کے ادنیٰ طالب علم پر بھی مخفی نہیں کہ یہ اصول جس طرح طہارت و نجاست کے باب میں جاری ہے، اسی طرح اباحت و حرمت کے باب میں بھی جاری ہے۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 25، صفحات 89 تا 91)

یہ عبارت اس بحث میں انتہائی اہم ہے۔ کیونکہ خود اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے واضح فرمایا کہ عمومِ بلویٰ بذاتِ خود حرام کو حلال نہیں کرتا، بلکہ جب مسئلہ مختلف فیہ ہو اور واقعی عمومِ بلویٰ و مشقت موجود ہو تو تخفیف اور آسانی والے قول کی طرف رجوع کی گنجائش پیدا ہوسکتی ہے۔

 آرٹیفیشل جیولری کے بارے میں معاصر فتاویٰ یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ آرٹیفیشل جیولری کے مسئلہ میں معاصر اہلِ علم کے فتاویٰ یکساں نہیں ہیں۔ حضور تاج الشریعہ مفتی اختر رضا خان محدث بریلوی نور اللہ مرقدہ کی ایک کلپ بھی گردش میں آئی، جس میں آپ سے سوال کیا گیا: "کیا عورتوں کو دورِ حاضر میں آرٹیفیشل جیولری پہننا جائز ہے؟" آپ رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا کہ آرٹیفیشل جیولری پہننا جائز نہیں، اور اسے پہن کر نماز پڑھنا مکروہ تحریمی، واجب الاعادہ ہے۔

 اسی طرح سراج الفقہاء مفتی نظام الدین رضوی دامت برکاتہم العالیہ سے بھی ایک سوال و جواب کے سیشن میں آرٹیفیشل جیولری کے متعلق سوال کیا گیا، تو آپ نے بھی اس کے پہننے کو ناجائز اور پہن کر نماز پڑھنے کو مکروہ تحریمی، واجب الاعادہ قرار دیا۔

یہ اقوال اس لیے ذکر کیے جا رہے ہیں تاکہ یہ واضح رہے کہ معاصر اہلِ علم میں اس مسئلہ کے متعلق ایک ہی موقف نہیں ہے، بلکہ عدمِ جواز کا موقف بھی موجود ہے اور جواز کا موقف بھی بعض اہلِ علم کی طرف سے پیش کیا گیا ہے۔

 اصل تحقیقی سوال کیا ہے؟ لہٰذا اب اصل بحث یہ نہیں کہ: "کیا آج کل آرٹیفیشل جیولری عام ہے؟"  بلکہ اصل سوال یہ ہے: کیا اس کا عام ہونا شرعی اصطلاح میں عمومِ بلویٰ کے درجے تک پہنچا ہے؟ اور اس کے لیے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ:

1. عوام و خواص دونوں اس میں مبتلا ہوں۔
2. ابتلاء واقعی عمومی ہو۔
3. اس سے بچنا معتد بہ حرج و مشقت کا باعث ہو۔
4. محض کثرتِ استعمال کو عمومِ بلویٰ نہ سمجھا جائے۔
5. مسئلہ فی نفسہٖ ایسا مختلف فیہ ہو جس میں شرعی اصولوں کے مطابق تخفیف کی گنجائش ہو۔
6. جس علاقے میں جواز کا فتویٰ دیا جا رہا ہے، وہاں واقعی یہی حالات اور یہی علت موجود ہو۔ محض یہ کہنا کہ "آج کل بہت عام ہے"، عمومِ بلویٰ ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں۔

حاصلِ کلام
آرٹیفیشل جیولری کے مسئلہ میں سب سے پہلے محلِ نزاع کی تعیین ضروری ہے۔ پلاسٹک اور کانچ کی چوڑیاں ایک الگ مسئلہ ہیں، جبکہ لوہا، پیتل، تانبا اور دیگر دھاتوں سے بنے ہوئے مصنوعی زیورات الگ مسئلہ ہیں۔

اسی طرح سونے یا چاندی کی مکمل تہہ/خول اور محض سونے یا چاندی کا پانی یا ملمع بھی ایک حکم نہیں رکھتا۔ اس کے بعد یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کیا ان دھاتی مصنوعی زیورات کے استعمال کی کثرت واقعی شرعی عمومِ بلویٰ ہے، یا صرف عرفی کثرت اور رواج ہے؟

کیونکہ عمومِ بلویٰ کا مدار صرف عام ہونے پر نہیں بلکہ عمومی ابتلاء، عوام و خواص کی گرفت اور اس سے بچنے میں معتد بہ حرج و مشقت پر ہے۔ لہٰذا کسی دوسرے ملک یا علاقے میں محض عام استعمال کو دیکھ کر ہندوستان یا نیپال میں بھی عمومِ بلویٰ ثابت کردینا مزید تحقیق کا محتاج ہے۔

 ان شاء اللہ الرحمن قسط سوم میں اسی اہم سوال پر گفتگو ہوگی کہ ایک ملک یا علاقے کا عرف، تعامل اور عمومِ بلویٰ کیا دوسرے ملک یا علاقے پر خود بخود منطبق کیا جا سکتا ہے؟ اور اس کے ساتھ ہندوستان کے اندر موجود فقہی نظائر، عرف، شعار اور مقامی حالات کی روشنی میں اس مسئلہ کو مزید واضح کیا جائے گا۔

 رشحات قلم: سرفراز احمد قادری امجدی
28 صفر المظفر 1448ھ 11 اگست 2026ء
بانی و صدر: محبوب الاولیاء فاؤنڈیشن لہوریا شریف ضلع سیتامڑھی بہار خطیب و امام سنی حنفی بریلوی جامع مسجد پرسواڑا ضلع بالاگھاٹ ایم پی

 

एक टिप्पणी भेजें

और नया पुराने