فتویٰ نمبر 122
کیا امتحان میں نقل کی اجازت کے لیے رقم دینا رشوت ہے؟
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
حضرت مفتی صاحب ! ایک مسئلہ دریافت کرنا ہے:
اگر کوئی طالبہ SSC کا امتحان اوپن سے دیتی ہے، اور وہاں کے امتحانی عملے یا متعلقہ لوگوں کو کچھ رقم اس لیے دی جاتی ہے کہ وہ امتحان میں نقل کرنے کی اجازت دیں، تو کیا اس طرح پیسے دینا شرعاً رشوت کے زمرے میں آئے گا؟
اور کیا ایسی صورت میں پیسے دے کر نقل کرنا یا نقل کی اجازت حاصل کرنا شرعاً جائز ہے؟ نیز اگر یہ رشوت ہے تو اس میں دینے والے اور لینے والے دونوں کے لیے کیا حکم ہے؟
جزاکم اللہ خیراً کثیراً
والسلام
سائلہ: کہکشاں رضویہ نوریہ تلنگانہ
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوہاب :
پیپر یا ٹیسٹ میں نقل کرنا حرام و گناہ ہے، خواہ امتحان دینی تعلیم کا ہو یا دنیوی تعلیم کا، کیونکہ نقل کرنا دھوکہ اور بددیانتی ہے، اور دھوکہ دینا شرعاً ناجائز و حرام ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا» ترجمہ: جو ہمیں دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں۔
لہذا SSC کا امتحان اوپن سے دینے والی طالبہ کے لیے بھی نقل کرنا جائز نہیں، بلکہ اپنی قابلیت کے مطابق امتحان دینا لازم ہے۔ امتحان میں نقل کے ذریعے کامیابی حاصل کرنا درحقیقت ایسی قابلیت اور اہلیت ظاہر کرنا ہے جو اس طالبہ میں حقیقتاً موجود نہیں، لہذا اس میں دھوکہ اور حق تلفی دونوں پائے جاتے ہیں۔
اور اگر امتحانی عملے یا متعلقہ افراد کو اس مقصد سے رقم دی جائے کہ وہ نقل کرنے کی اجازت دیں یا نقل میں تعاون کریں تو یہ رشوت ہے، کیونکہ مال دے کر انہیں ایک ناجائز کام پر آمادہ کیا جا رہا ہے۔ ایسی رشوت کا مقصد اپنا جائز حق حاصل کرنا نہیں بلکہ ناجائز طریقے سے امتحان میں کامیابی حاصل کرنا ہے، اس لیے نہ دینے کی کوئی شرعی مجبوری ہے اور نہ اس میں رشوت کی رخصت والی صورت پائی جاتی ہے۔
لہذا پیسے دے کر نقل کرنا، نقل کی اجازت حاصل کرنا اور اس کے ذریعے امتحان پاس کرنا سب ناجائز و حرام ہیں۔ رقم دینے والی طالبہ بھی گناہگار ہوگی اور رقم لے کر نقل کی اجازت دینے یا نقل میں تعاون کرنے والا امتحانی عملہ بھی گناہگار ہوگا۔ رشوت دینے اور لینے دونوں کی سخت مذمت احادیث میں وارد ہوئی ہے۔
نیز ایسا قانون جو خلاف شرع نہ ہو، اس کی پابندی کرنا لازم ہے، خصوصاً جب اس کی خلاف ورزی قانوناً جرم اور پکڑے جانے کی صورت میں ذلت و رسوائی کا سبب بھی ہو۔ لہذا امتحانی قوانین کی پابندی کرنا ضروری ہے اور نقل کے ذریعے کامیابی حاصل کرنے سے مکمل اجتناب لازم ہے۔
خلاصہ:
طالبہ کا پیسے دے کر امتحانی عملے سے نقل کی اجازت لینا شرعاً رشوت ہے، اور نقل کرنا بذات خود بھی حرام و گناہ ہے۔ اس لیے طالبہ کے لیے رقم دے کر نقل کرنا یا نقل کی اجازت حاصل کرنا ناجائز و حرام ہے، اور رشوت لے کر اس ناجائز کام میں تعاون کرنے والے کے لیے بھی رقم لینا حرام ہے۔
واللہ تعالی اعلم بالصواب
کــــتبہ : مفتی سـرفـراز احمد قــادری امجدی
6 ربیع النور 1448ھ 20 اگست 2026ء
بانی و صدر محبوب الاولیاء فاؤنڈیشن لہوریا شریف ضلع سیتامڑھی بہار خطیب و امام، سنی حنفی بریلوی جامع مسجد پرسواڑا، ضلع بالاگھاٹ، ایم پی
Tags
رشوت کا بیان
