سفید داغ کی بیماری میں مبتلا امام کے پیچھے نماز پڑھنے اور اسے بیماری کی وجہ سے امامت سے ہٹانا کیسا ہے؟

 


السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید سنی صحیح العقیدہ عالمِ دین اور حضور تاج الشریعہ کا مرید بھی ہے اور مسندِ امامت پر فائز بھی ہے اور ایک ہی جگہ پر پانچ سال سے لگاتار ڈیوٹی کو اچھے طریقے سے انجام دے رہا ہے اب اتنے عرصے میں لوگوں کے حالات کو دیکھتے ہوئے جمعہ کی تقریر یا محلہ کی میلاد میں اصلاح معاشرہ پرتقریر کرنے کی وجہ سے کچھ لوگ اس اِمام کے مخالف ہو گئے ہیں اور اس کو ہٹانے کی کوشش میں شب و روز لگے ہوئے ہیں اس امامِ میں ایک کمی یہ ہے کہ اسے (baras)کا مرض ہے یعنی سفید داغ کی بیماری ہے ہاتھ اور پاؤں میں یہی ایک کمی کے سبب اِمام کو ہٹانا چاہتا ہے اور اس کو کہتا ہے کہ مولانا عیب دار ہے عیب دار کے پیچھے نماز جائز نہیں  اب کہنا یہ ہے کہ کیا سفید داغ ہونا عیب ہے کیا اس امامِ کی اقتداء میں نماز پڑھنے والے کی نماز جائز نہیں ہوگی اِس کا مدلل جواب شریعت و سنت کی روشنی میں عنایت فرمائیں اور اس شخص کے لیے کیا حُکم ہوگا جو محض ایک بیماری کی وجہ سے اِمام کو پریشان کر رہا ہے اور لوگوں کو ورغلا تا رہتاہے کے جلد اس امام کو ہٹاؤ اِس کے پیچھے نماز نہیں ہوگی  کیا؟مخالف کا یہ کہنا درست ہے  اب آپ کے جواب کا انتظار رہے گا ? المستفتی : مولانا محمد مسعود عالم مصطفیٰ پور مظفر پور بہار

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ 
الجواب بعون الملک الوہاب : 
سفید داغ کی بیماری بذات خود ایسی چیز نہیں کہ اس کی وجہ سے کسی شخص کو امامت سے محروم کردیا جائے یا اس کے پیچھے نماز کو ناجائز کہا جائے۔ اگر امام سنی صحیح العقیدہ، درست قراءت کرنے والا اور شرائط امامت کا اہل ہے تو اس کے پیچھے نماز ہوجائے گی۔ محض سفید داغ ہونے کی وجہ سے نماز کو ناجائز کہنا درست نہیں۔ البتہ فقہائے کرام نے ایسے شخص کی امامت کو مکروہ قرار دیا ہے جس کا برص ظاہر اور پھیلا ہوا ہو، بشرطیکہ جماعت میں اس سے بہتر شخص موجود ہو۔ اگر وہی امامت کا مستحق ہو تو کراہت نہیں۔ لہٰذا اس مسئلے میں تفصیل ہے، ہر سفید داغ والے شخص پر ایک ہی حکم نہیں لگایا جاسکتا۔

جیسا کہ سیدی سرکار اعلیٰ حضرت،مجدد اعظم، امام احمد رضا خاں فاضلِ بریلوی نور اللہ مرقدہ سے کسی نے سوال کیا کہ : اس مسئلہ میں کہ مبروص کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں یعنی جس کا تمام جسم عارضہ برص سے سفید ہوگیا ہو اس کی امامت کے لئے کیا حکم ہے ؟ الجواب  : ایسے برص والے کے پیچھے نماز مکروہ ہے فی الدرالمختار تکرہ خلف ابرص شاع برصہ  (درمختار میں ہے ایسے برص والے کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے جس کا برص پھیل گیا ہو۔ (فتاویٰ رضویہ شریف جلد 6 ص 456)

صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ نے تحریر فرمایا ہے کہ : غلام، دہقانی اندھے، ولدالزنا، امرد، کوڑھی، فالج کی بیماری والے، برص والے کی جس کا برص ظاہر ہو، سفیہ (یعنی بے وقوف کہ تصّرفات مثلاً بیع و شرا  میں  دھوکے کھاتا ہو) کی اِمامت مکروہ تنزیہی ہے اور کراہت اس وقت ہے کہ اس جماعت میں  اور کوئی ان سے بہتر نہ ہو اور اگر یہی مستحق اِمامت ہیں  تو کراہت نہیں  اور اندھے کی اِمامت میں  تو بہت خفیف کراہت ہے۔ (بہار شریعت حصہ 3 ص573)

لہٰذا صورت مسئولہ میں اگر امام صاحب کے سفید داغوں سے مواد نہیں نکلتا اور بدبو بھی نہیں آتی تو محض اس بیماری کی وجہ سے انہیں مسجد میں آنے سے روکنا یا ان کے پیچھے نماز کو ناجائز کہنا درست نہیں۔ اگر بیماری سے مواد نکلتا ہو اور بدبو کے سبب نمازیوں کو تکلیف پہنچتی ہو تو اس صورت کا حکم الگ ہوگا۔ بیماری کی وجہ سے امام صاحب کو عیب دار کہتے، لوگوں کو ان کے خلاف ورغلاتے اور انہیں بلاوجہ پریشان کرتے ہیں، انہیں اس طرز عمل سے توبہ کرنی چاہیے۔ امام کی تبدیلی کا فیصلہ شرعی اصولوں، اہلیت اور مصلحت کی بنیاد پر ہونا چاہیے، ذاتی مخالفت یا بیماری کو بہانہ بنا کر نہیں۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ : سرفراز احمد قادری امجدی
2 جمادی الاولی 1448ھ 15 اکتوبر 2026ء
 بانی و صدر محبوب الاولیاء فاؤنڈیشن لہوریا شریف ضلع سیتامڑھی بہار خطیب و امام، سنی حنفی بریلوی جامع مسجد پرسواڑا، ضلع بالاگھاٹ، ایم پی

एक टिप्पणी भेजें

और नया पुराने